عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 2023 میں ایک ایرانی دارالحکومت سے عراقی سرحد کے قریبی علاقے الام جانے والی زائرین کی بس کو بم دھماکے میں اُڑانے کی کوشش کی گئی تھی۔
اس بم دھماکے میں ایک چھوٹا بچہ جاں بحق جب کہ 10 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک معذور ہوگیا تھا۔
بم دھماکے کی تحقیقات کے دوران ایک ملزم کو بس میں بم نصب کرنے اور دوسرے کو دھماکا کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
دونوں ملزمان کا تعلق داعش سے تھا جنھوں نے تفتیش کے دوران اعتراف جرم کرلیا تھا جس پر عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔
بعد ازاں یہ کیس سپریم کورٹ تک بھی پہنچا جہاں سزائے موت کو برقرار رکھا گیا اور آج اس فیصلے پر عمل درآمد کردیا گیا۔
ایران نے پھانسی دیئے جانے والے مجرموں کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں ایرانی شہری تھے۔
یاد رہے کہ ایران دنیا میں چین اور سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا ملک ہے جہاں عدالتی کارروائیوں کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔