اپنی انسٹاگرام اسٹوریز پر شیئر کی گئی تفصیلی تحریر میں اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ ایک جشن کے طور پر منعقد ہونے والا ایونٹ ان کے لیے ذہنی اذیت اور شرمندگی کا باعث بن گیا۔
مونی رائے کے مطابق جیسے ہی وہ اسٹیج کی جانب بڑھیں، حالات غیر آرام دہ ہونے لگے۔ انہوں نے لکھا کہ چند عمر رسیدہ افراد اور دیگر مردوں نے تصاویر بناتے ہوئے ان کی کمر پر ہاتھ رکھا، جس پر انہوں نے فوراً اعتراض کیا اور ہاتھ ہٹانے کو کہا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود رویہ بہتر نہ ہوا اور اسٹیج پر پہنچنے کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔
ان کے بیان کے مطابق دو افراد عین سامنے کھڑے ہو کر نازیبا جملے کہتے رہے، ہاتھوں سے نامناسب اشارے کیے اور آوازیں کسنے لگے۔ مونی رائے نے بتایا کہ ابتدا میں انہوں نے نرمی سے منع کرنے کی کوشش کی، مگر اس کے جواب میں ان کی طرف گلاب کے پھول اچھالے جانے لگے۔ ایک موقع پر وہ پرفارمنس ادھوری چھوڑ کر جانے کا سوچنے لگیں، تاہم واپس آ کر پروگرام مکمل کیا۔
اداکارہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سب کے دوران نہ تو کسی منتظم نے اور نہ ہی وہاں موجود خاندانوں نے ان افراد کو آگے سے ہٹانے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسٹیج اونچائی پر تھا اور کچھ لوگ نیچے سے ویڈیوز بنا رہے تھے، جبکہ روکنے پر بدزبانی کی گئی۔
مونی رائے نے لکھا کہ وہ خود کو کمتر، خوفزدہ اور ذہنی طور پر ٹوٹا ہوا محسوس کر رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ متعلقہ حکام اس رویے کے خلاف کارروائی کریں۔
اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ فنکار اپنے ہنر کے ذریعے ایمانداری سے روزگار کماتے ہیں اور سوال اٹھایا کہ اگر ایسے لوگ اپنی بیٹیوں، بہنوں یا گھر کی خواتین کے ساتھ یہی سلوک ہوتا تو کیا ردِعمل دیتے۔
اداکارہ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ عام طور پر منفی تجربات کو عوام کے سامنے نہیں لاتیں، مگر اس واقعے نے حد پار کر دی۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے ملک، عوام اور روایات سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے بعض رویوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔