بنگلہ دیش ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر، آئی سی سی نے اعلان کر دیا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ گروپ سی میں بنگلہ دیش کی جگہ لے گا جہاں پہلے ہی انگلینڈ، اٹلی، نیپال اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اب بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش نے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کو بنیاد بناتے ہوئے ٹیم کو بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے میچز کے وینیوز میں تبدیلی کی باضابطہ درخواست آئی سی سی کو دی تھی تاہم آئی سی سی کی جانب سے اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔

بدھ کو آئی سی سی کے بورڈ اجلاس کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو حکومت سے مشاورت کے لیے 24 گھنٹوں کی مہلت دی گئی تھی تاہم مقررہ وقت کے اندر کوئی تصدیق موصول نہ ہونے پر آئی سی سی نے اپنے قواعد کے مطابق متبادل ٹیم کے انتخاب کا عمل شروع کر دیا۔

آئی سی سی نے جمعے کی شام بی سی بی کو ای میل کے ذریعے فیصلے سے آگاہ کیا، جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ بنگلہ دیشی حکومت نے 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے ٹیم کو بھارت بھیجنے کی اجازت نہیں دی۔

رپورٹس کے مطابق بی سی بی نے اس معاملے کو آئی سی سی کی تنازعات کے حل کے لیے قائم ’ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی‘ (ڈی آر سی) میں لے جانے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی قانونی بنیاد کیا ہوگی۔

آئی سی سی قوانین کے مطابق ڈی آر سی، آئی سی سی بورڈ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا فورم نہیں بلکہ صرف فیصلے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کا محدود اختیار رکھتی ہے جبکہ اس معاملے میں آئی سی سی بورڈ پہلے ہی واضح اکثریت سے متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق بنگلہ دیش کی درخواست کے بعد بھارت میں سیکیورٹی صورتحال کا مختلف ماہرین کے ذریعے جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو بھارت میں کسی خاص سیکیورٹی خطرات کا سامنا نہیں تھا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آئی سی سی اور بنگلہ دیشی حکام کے درمیان تین ہفتوں تک مذاکرات جاری رہے تاہم ٹورنامنٹ کے آغاز میں کم وقت باقی ہونے کے باعث بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی درخواستوں کو پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ جس کے بعد بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے، جبکہ بھارت اور سری لنکا اس ایونٹ کے مشترکہ میزبان ممالک ہیں۔

بنگلہ دیش جو اِس ایونٹ کے گروپ سی میں شامل تھا، اسے کولکتہ میں ابتدائی تین جبکہ ممبئی میں چوتھا میچ کھیلنا تھا، جو اب اسکاٹ لینڈ کھیلے گا۔

اُدھر بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے آئی سی سی پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ وہ رویہ نہیں اپنایا گیا جو بھارت کے پاکستان نہ جانے کے معاملے میں اختیار کیا گیا تھا۔

بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے انڈین پریمیئر لیگ کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت کی کہ بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اسکواڈ میں شامل نہ کیا جائے۔

جس کے بعد بی سی بی نے 4 جنوری کو آئی سی سی کو آگاہ کیا کہ ٹیم سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت کا سفر نہیں کرے گی۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی اور پی سی بی اس معاملے پر حکومتی ہدایات کا پابند ہے۔

محسن نقوی نے اس معاملے پر کہا کہ بنگلادیش کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور کسی ایک ملک کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ دیگر کرکٹ بورڈز کو ڈکٹیٹ کرے۔ آئی سی سی کو تمام رکن ممالک کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کرنا چاہیے۔

Similar Posts