کمار سانو کی سابقہ اہلیہ کیخلاف 50 کروڑ ہرجانے کے مقدمے میں بڑی قانونی جیت

بھارت کے عالمی شہرت پلے بیک سنگر کمار سانو کو سابقہ اہلیہ کے خلاف 50 کروڑ کے ہتک عزت کے دعوے کے کیس میں بڑی قانونی کامیابی ملی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ساکھ کو نقصان پہنچانے کے کیس میں عدالت نے کمار سانو کی سابقہ اہلیہ ریٹا بھٹاچاریہ کو میڈیا پر گلوکار کے خلاف بیانات دینے سے روک دیا۔

ممبئی عدالتِ عالیہ کے جسٹس ملند جادھو کی سربراہی میں بنچ نے رِیٹا بھٹاچاریہ کو زبان بندی کا حکم جاری کیا ہے۔

جس میں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کمار سانو یا ان کے خاندان کے خلاف کسی بھی پلیٹ فارم پر، چاہے وہ پرنٹ، ڈیجیٹل، سوشل میڈیا یا انٹرویو ہو، کوئی منفی، توہین آمیز یا متنازع بیان نہ دیں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز بھی ایسے بیانات، پوسٹس یا تبصروں سے قطعی باز رہیں جو گلوکار کمار سانو کی ساکھ، وقار اور پیشہ ورانہ شہرت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی اگلی سماعت 28 جنوری 2026 تک ملتوی کردی جس میں مصالحت جیسے آپشنز پر بھی غور کیا جائے گا۔

گلوکار کمار سانو نے عدالت کے ابتدائی حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف متنازع بیانات نے میری ساکھ اور خاندان کی عزت کو نقصان پہنچایا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس ریٹا بھٹاچاریہ نے متعدد یوٹیوب اور میڈیا انٹرویوز میں کمار سانو ہر سنگین الزامات لگائے تھے جن میں حمل کے دوران بدسلوکی، خوراک اور طبی سہولیات سے محروم رکھنا شامل تھا۔

سابقہ اہلیہ نے کمار سانو پر غیر ازدواجی تعلقات اور بے وفائی کے الزامات بھی لگائے تھے اور طلاق کی وجہ بھی انھی کو قرار دیا تھا۔

کمار سانو نے ان تمام الزامات کو جھوٹا قرار دے کر سابقہ اہلیہ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

 

Similar Posts