اِس مخالفت کا آغاز اکبر ایس بابر کی جانب سے کیا گیا ہے ۔ موصوف کا تعارف یہ ہے کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے اہم بانیان میں سے ایک ہیں ۔اُنہوں نے محمود خان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر تعیناتی کو وفاقی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ خبر کے مطابق:’’اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے محمود خان اچکزئی کو لیڈر آف دی اپوزیشن تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔
اس فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ایسے فیصلے ملک میں جاری انتشار کو تقویت دینے کے مترادف ہیں جس کا پاکستان مزید متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ پاکستان کا آئین اور قانون ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ ایک سزا یافتہ شخص جیل سے پاکستان کی سیاست کے اہم ترین فیصلے کرے۔ یہ فیصلہ حکمران جماعت کی طرف سے مفاہمت کے نام پر ’’مک مکا‘‘ کی سیاست کی ایک زندہ مثال ہے۔ اقتدار کے کھلواڑ میں پہلے دو کھلاڑی تھے، اب تیسرا کھلاڑی بھی شامل ہو گیا ہے‘‘۔
پی ٹی آئی سے غیر متعلق ہونے یا کیے جانے کے بعد اکبر ایس بابر صاحب پہلے ہر موقع ، بے موقع پر بانی پی ٹی آئی کی مخالفت پر کمر باندھے نظر آتے رہے ہیں ، اور اب وہ قومی اسمبلی میں نئے نئے متعین و مقرر ہونے والے قائدِ حزبِ اختلاف کے خلاف بھی میدان میں اُتر آئے ہیں ۔ اپنے کسی حق کے حصول کیلیے عدالت کے دروازے پر دستک دینا اُن کا آئینی و قانونی حق تو ہے ، مگر کیا اِس طرزِ سیاست کو کم از کم مناسب کہا جا سکتا ہے ؟ ایسی طرزِ سیاست مگر اکبر ایس بابر تک ہی محدود نہیں ہے ۔
محمود خان اچکزئی کے حوالے سے ایسے مناظر اور بھی منصہ شہود پر آ رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر میڈیا میں یہ در فنطنی چھوڑنا کہ ’’ نون لیگ کے صدر نواز شریف نے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنایا ہے ۔‘‘ یہ ’’انکشاف‘‘ جے یو آئی (ایف) کے رہنما ، سینیٹر کامران مرتضیٰ، نے یہ کہہ کر کیا ہے :’’ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نواز شریف کے کہنے پر بنایا گیا ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے براہِ راست نواز شریف سے رابطہ کیا تھا۔نواز شریف نے بھی اپنے اندر کا غصہ نکالنے کیلیے اچکزئی کا نوٹیفکیشن جاری کروایا۔‘‘یہ خبر کئی دیگر معاصرین نے شائع کی ہے ۔
اور اِس خبر کے برعکس دیگر معاصر نے یہ خبر بھی شائع کی ہے۔ یہ کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنانے میں نواز شریف کا ہاتھ نہیں تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا:قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ، محمود خان اچکزئی، کی تقرری کے معاملے میں میاں نواز شریف کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ نواز شریف کے کردار کا ذکر کرنے والے کیا ہماری ملاقات کے دوران صوفے کے نیچے بیٹھے تھے؟ نواز شریف ہمارے قائد ہیں ، مگر اُنہوں نے مجھے اپنی ذمے داریوں میں فری ہینڈ دے رکھا ہے۔
محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کے متعلق تمام فیصلے میرے ہیں۔‘‘ ایاز صادق صاحب نے جو کچھ کہا ہے، بنیادی طور پر درست معلوم ہوتا ہے ۔ حیرت مگر اِس بات پر ہے کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ’’انکشاف کی شرلی‘‘ چھوڑ کر کیا مقصد حاصل کرنا چاہا؟ کیا وہ سر منڈاتے ہی کسی کے سر پر اولے گرانا چاہتے تھے ؟ 19جنوری2026ء کو محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں بطورِ قائد حزبِ اختلاف جو پہلی تقریر کی، اس میں بھی اِس ’’الزام‘‘ کی تردید کی گئی کہ اُن کے تقرر میں نواز شریف کا ہاتھ تھا۔ اچکزئی صاحب نے کہا:’’نواز شریف میرے دوست ہیں، مگر مَیں نے اپوزیشن لیڈر بننے کے لیے نواز شریف سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔مَیں اپنے عہدے کیلیے کبھی کسی کو نہیں کہتا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے مجھے کابینہ میں وزیر بنانے کی پیشکش کی تھی مگر مَیں نے انکار کر دیا۔‘‘
اب تو مطلع صاف ہو گیا ہے اور اُن لوگوں کو منہ کی کھانا پڑی ہے جو اِس معاملے میں نواز شریف کو ملوث کرکے اپنے جَلی اور خفی مفادات سمیٹنا چاہتے ہوں گے ۔مگر دوسری جانب دیکھا جائے تو منکشف ہوتا ہے کہ محمود خان اچکزئی اپنے پاؤں پر خود بھی کلہاڑی مارنے کے درپے ہیں ۔ مثلاً موصوف اپوزیشن لیڈر بنتے ہی کراچی پہنچے۔ سابق نون لیگی لیڈر اور سابق گورنر سندھ ، محمد زبیر،کے ہاں دیئے گئے عشایئے میں اچکزئی صاحب نے فرمایا:’’ ہم ہر صورت 8فروری کو پہیہ جام بھی کریں گے اور پورے ملک میں ہڑتال بھی کریں گے کہ آٹھ فروری ہم سب کے لیے یومِ سیاہ ہے ۔‘‘ دوسرے روز اچکزئی صاحب سندھی قوم پرستوں کے ہاں پہنچ گئے ۔
یقیناً موصوف کے اپوزیشن لیڈر بنتے ہی ان کی سرگرمیوں اور اُن کے ایسے بیانات سے حکومت کی توقعات کو بھی دھچکا پہنچا ہوگا اور اُن حلقوں کو بھی جو محمود خان اچکزئی کے بطورِ اپوزیشن لیڈر بننے بارے خاص تحفظات رکھتے تھے ۔ مگر اب تو تِیر کمان سے نکل چکا ہے ۔ کہنے والے مگر یہ بھی کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ایک بانی رہنما ( اکبر ایس بابر) کی جانب سے اچکزئی کی تقرری کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں جانے کا جو اعلان کیا گیا ہے، یہ دراصل محمود خان اچکزئی کے سر پر لٹکی تلوار سے کم نہیں ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے کسی بھی وقت کچھ بھی فیصلہ آ سکتا ہے ۔
ویسے جناب محمود خان اچکزئی اب اگر قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بن ہی گئے ہیں تو اُنہیں کام کرنے دینا چاہیے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی ، جناب ایاز صادق، نے اُنہیں اپوزیشن لیڈر بناتے وقت بعض محدودات کا ذکر واضح الفاظ میں یہ کہہ کر کر دیا تھا کہ’’قومی اسمبلی میں پاکستان، افواجِ پاکستان اور عدلیہ کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اگر کوئی ایسی جسارت کرے گاتو مائیک بند ملے گا۔‘‘اگر اِن مختصر سی حد بندیوں کے اندر رہتے ہُوئے اچکزئی صاحب اپوزیشن کا نکتہ نظر ہاؤس کے اندر اور باہر پیش کرتے ہیں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔ وہ افغانستان سے محبت و عشق بھی کرتے رہتے ہیں تو یہ ’’عشق‘‘ اُنہیں کرنے دیا جائے ۔ پاکستان بھر میں اِس ’’عشق‘‘ کی مخالفت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے ۔
اچکزئی صاحب نے بطورِ قائدِ حزبِ اختلاف اپنی پہلی تقریر میں جو جو نکات پیش کیے ہیں،بحثیتِ مجموعی اِن نکات کی سرے ہی سے مخالفت سیاست کی مبادیات کے بھی منافی ہوگی۔ اور اگر محمود خان اچکزئی صاحب کے دل میں پاکستان کے رکنِ اسمبلی اور قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت میں افغانستان کیلیے نرم گوشہ ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی ۔ پاکستانی پارلیمانی تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے تو یہ منظر دِکھتا ہے کہ ’’نئے پاکستان‘‘ کی اسمبلی ( جب پاکستان کے اقتدار پر زیڈ اے بھٹو فائز تھے)میں بھٹو صاحب کے مقابل خان عبدالولی خان صاحب قائدِ حزبِ اختلاف تھے ۔
ولی خان مرحوم کے دل میں افغانستان اور بھارت کیلیے (ہمیشہ) جو نرم گوشہ رہا، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ اُنہوں نے تو ایک نامناسب سی کتاب (Facts are Facts) تک لکھی دی جس میں تحریکِ پاکستان پر انگشت نمائی کی گئی تھی ۔ مگر اِس کے باوجود وہ ہمارے معزز قائدِ حزبِ اختلاف رہے ۔ اُن کے بعد حضرت مولانا مفتی محمود (مرحوم) قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بنے تھے ۔ گویا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں ، قائدینِ حزبِ اختلاف کی شکل میں، ایک رنگا رنگی اور تنوع ہے ۔ اِس تنوع ہی میں اصل سیاست اور سیاستدانوں کے چہرے نکھر کر سامنے آتے ہیں ۔ یک رنگی رُوس، شمالی کوریا اور چین کی پارلیمنٹس میں تو نظر آ سکتی ہے، پاکستان میں یہ نا ممکن ہے ۔