تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں لا پتہ ہونے والے نیوکراچی گودھرا کے رہائشی حافظ عارف کے والد نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد جب بیٹے سے آخری مرتبہ بات چیت ہوئی تو بیٹے نے بتایا کہ ابو امی میری جان بچا لو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
ہم نے بیٹے سے کہا کلمہ پڑھو ہم آرہے ہیں ہم پہنچے تو گل پلازہ ایک کونے میں آگ لگی تھی دیکھتے ہی دیکھتے آگ ایک جانب سے دوسری جانب تک پھیل گئی میرے قدم بوجھل ہوگئے۔
حافظ عارف کے چچا نے بتایا کہ عارف کے دو بچے ہیں، سوا سال کی بیٹی اور ایک ماہ کا بیٹا ہے، ہم یہاں کیا بریانی کھانے آئے ہیں، ہمارے ووٹوں سے مرتضی وہاب مئیر بنے لیکن میئر کراچی بائیس تئیس گھنٹے کے بعد یہاں آئے، نہیں کرو اس طرح، کسی کی جانوں کے ساتھ ایسا نہ کرو۔
گل پلازہ میں پانچ چھ منٹ میں پوری آگ لگی چاروں طرف سے گل پلازہ کو آگ لگ جانا المیہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔