ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس بھارت اس وقت سنگین سیاسی، معاشی اور سفارتی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
شانتہ چیتری کے مطابق مودی کی سفارت کاری زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی اور جھوٹے دعوؤں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی معیشت، خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک حیثیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ بڑھتے ٹیکس، بیروزگاری اور مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
سابق سینیٹر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بھارت پر تجارتی ٹیرف عائد کیے گئے اور بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ جیسے اہم منصوبے سے بھی پیچھے ہٹنا پڑا، جو بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
شانتہ چیتری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے امریکا، سعودی عرب، ترکیہ اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلامی ممالک کے درمیان ابھرتا ہوا اتحاد بھارت کے لیے ایک نیا اسٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے، اور اگر مستقبل میں کوئی تنازع یا جنگ ہوئی تو بھارت کو صرف پاکستان نہیں بلکہ ایک وسیع اتحاد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سابق بھارتی سیاستدان کے مطابق بھارت اس وقت نہ صرف معاشی بلکہ فوجی سطح پر بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، جبکہ اندرونی طور پر بیروزگاری، مہنگائی، عدم مساوات اور ماحولیاتی مسائل سنگین شکل اختیار کر چکے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت اپنی ناکامیوں اور عالمی سطح پر ہزیمت کو چھپانے کے لیے مذہبی اور ثقافتی تنازعات کو ہوا دے رہی ہے۔