پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا یا نہیں؟ حتمی فیصلہ جمعہ یا پیر کو ہوگا، اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ہدایت کردی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت کا فیصلہ چند روز بعد ہوگا۔
ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت کے معاملے پر پیر کو وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے وزیر اعظم ہاؤس میں خصوصی ملاقات کی۔
اس ملاقات میں میں محسن نقوی نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مابین حالیہ صورت حال پر وزیرِاعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقات ہوئی، وزیراعظم کو آئی سی سی کے معاملے پر بریفنگ دی، جس پر انہوں نے ہدایت کی کہ تمام آپشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ پاکستان کی ورلڈ کپ میں شرکت کا حتمی فیصلہ جمعہ یا آئندہ پیر کو کیا جائے گا۔
ملاقات کا احوال
وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران محسن نقوی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے بنگلادیش کے موقف کی بھرپور حمایت کی اور اُس کا کیس دنیا بھر میں بھرپور انداز میں پیش کیا، بنگلادیش کو ورلڈکپ سے باہر کیے جانے پر آئی سی سی سے بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا، پاکستان آئی سی سی کو بذریعہ خط اپنا احتجاج ریکارڈر کرائے گا۔
ذرائع کے مطابق دوران ملاقات چیئرمین پی سی بی نے وزیراعظم کو آئی سی سی کے دہرے معیار پر بریفنگ دی اور بتایا کہ آئی سی سی بھارت کے لیے ایک قانون اور دیگر ممالک کے دوسرا قانون استعمال کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق شہباز شریف اور محسن نقوی کی ملاقات میں بنگلادیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ سے نکالے جانے اور پاکستان ٹیم کے بائیکاٹ یا شرکت کرنے کی صورت میں احتجاج کے مختلف آپشنز پر غور ہوا۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی ٹیم کا ورلڈ کپ کے میچوں میں سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت کرنے اور بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کے آپشنز موجود ہیں۔
ملاقات کے دوران ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کو شرکت کے لیے گرین سگنل دیا گیا جب کہ پاکستان ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔
کیا پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرے گا یا پھر پاک بھارت میچ نہیں کھیلے گا، 15 فروری کو کولمبو میں بھارت سے میچ نہ کھیلنے سے پاکستان کے صرف 2 پوائنٹ کٹ جائیں گے۔ پاکستان اور بھارت کا میچ ایونٹ کا بڑا مقابلہ ہوتا ہے، جس کے نہ ہونے سے آئی سی سی کو بھاری مالی نقصان ہوگا۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے ورلڈ کپ میں پاکستان کی شمولیت یا عدم شمولیت پر وزیراعظم کو اعتماد میں لیا، اس موقع پر وزیراعظم نے چیئرمین پی سی بی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
محسن نقوی نے وزیراعظم کو بتایا کہ اگر بھارت سے ہم میچ نہ کھیلیں تو اُس کا زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ ہم وہ فیصلہ کریں جو پاکستان اور بنگلادیش کے مفاد میں ہوگا۔
یاد رہے کہ بنگلادیشی کھلاڑی کو سیکیورٹی وجوہات کا بہانہ بناکر آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی ٹیم کو بھارت بھیجنے سے منع کردیا تھا۔
بنگلادیش نے مؤقف اپنایا کہ جس ملک کے سیکیورٹی اداروں سے ہمارے ایک کھلاڑی کی حفاظت ممکن نہیں وہاں پوری ٹیم کو سیکیورٹی کیسے فراہم کی جائے گی تاہم آئی سی سی نے دوہرا معیار اپناتے ہوئے بنگلادیشی مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا۔
چیئرمین پی سی بی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے بھارت میں نہ کھیلنے کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلادیش کا مؤقف اصولوں پر مبنی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے دوہرے معیار کو مسترد کرتا ہے۔