عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کو پولیس افسر کی باقیات غزہ شہر کے ایک قبرستان سے ملی تھیں جسے اسرائیل لایا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر غزہ سٹی کے مشرقی حصے میں ایک مسلم قبرستان میں تلاش شروع کی گئی تھی۔
کئی روز کی کھدائی اور فرانزک جانچ کے بعد دانتوں کے ریکارڈ، فنگرپرنٹس اور دیگر ٹیسٹوں سے رن گویلی کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔
رن گویلی اُن 251 افراد میں سے آخری تھے جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے حملے کے بعد یرغمال بنایا تھا۔ اس طرح 843 دن بعد اب غزہ میں کوئی اسرائیلی یرغمالی باقی نہیں رہا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ رَن گویلی 7 اکتوبر کو زخمی کندھے کے باوجود یونیفارم پہن کر موٹر سائیکل پر کیبوتز الومیم پہنچے جہاں انہوں نے گھنٹوں حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور مارے گئے۔ بعد ازاں ان کی لاش غزہ منتقل کیے جانے کی تصدیق ہوئی تھی۔
اسرائیلی فوج کے بقول انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے دوران ایک گرفتار فلسطینی اسلامی جہاد کارکن نے باقیات سے متعلق اپم معلومات فراہم کی تھیں۔
جس کے بعد قبرستان میں درجنوں اہلکاروں اور فرانزک ماہرین جن میں 20 ڈینٹسٹ بھی شامل تھے، نے سیکڑوں قبروں کی کھدائی کی تھی۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ رن گویلی کی باقیات کی تصدیق ہونے کے بعد قبروں سے نکالی گئی دیگر لاشوں کو احترام کے ساتھ دوبارہ دفن کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ یہ پیش رفت اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے تناظر میں ہوئی جس کے تحت زندہ اور فوت شدہ یرغمالیوں کی واپسی طے تھی۔
حماس نے کہا کہ لاش کی واپسی جنگ بندی کی پاسداری کا ثبوت ہے جبکہ نیتن یاہو نے زور دیا کہ اگلا مرحلہ حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی عسکریت کا خاتمہ ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق رن گویلی کی باقیات کی واپسی کے بعد جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل غزہ کی وزارتِ صحت کے حوالے کم از کم 15 فلسطینی قیدیوں کی لاشیں کرے گا۔