برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر بدھ کے روز چین پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب برطانیہ کے امریکا کے ساتھ تعلقات میں غیر یقینی صورتِ حال میں اضافہ ہورہا ہے۔ کیئر اسٹارمر کا یہ دورہ 2018 کے بعد کسی برطانوی وزیراعظم کا پہلا سرکاری دورۂ چین ہے۔
برطانوی خبر رساں رائٹرز کے مطابق برطانوی وزیراعظم کے اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
چین کے دورے پر ان کے ہمراہ آنے والے 50 سے زائد برطانوی کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آٹھ دن سیاست میں طویل عرصہ سمجھے جاتے ہیں، لیکن آٹھ سال بعد کسی برطانوی وزیراعظم کا چین آنا ایک تاریخی موقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ برطانیہ میں عوام کو فائدہ پہنچانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اسٹارمر نے چین کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی تعاون کے ساتھ ساتھ ممکنہ سیکیورٹی خدشات سے ہوشیار رہنا بھی ضروری ہے۔
کیئر اسٹارمر جمعرات کو چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کریں گے۔ مبصرین کے مطابق یہ دورہ برطانیہ اور چین کے تعلقات میں ممکنہ تبدیلی کی علامت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ہانگ کانگ کا معاملہ، یوکرین جنگ میں روس کی حمایت اور برطانوی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے چین پر جاسوسی کے الزامات کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ چین کے معاملے میں ریت میں سر چھپانا کوئی دانش مندی نہیں ہے۔ یہ برطانیہ کے مفاد میں ہے کہ وہ چین کے ساتھ بہتر روابط رکھے۔
یورپی اور دیگر مغربی ممالک بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں کے پیشِ نظر چین کے ساتھ سفارتی روابط بڑھا رہے ہیں۔ اس سے قبل فرانس کے صدر نے بھی چین کا دورہ کیا تھا۔
کیئر اسٹارمر نے بھی ایسے وقت میں چین کا دورہ کیا ہے جب صدر ٹرمپ اور برطانیہ کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے، جس کی وجہ گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ کے بیانات اور نیٹو اتحادیوں کے افغانستان جنگ میں کردار سے متعلق تبصرے شامل ہیں۔
حال ہی میں صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا تو کینیڈین مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
کیئر اسٹارمر نے اس خدشے کو مسترد کیا کہ چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے سے امریکا ناراض ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ برطانیہ کے دفاعی، سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور تجارتی تعلقات انتہائی قریبی اور تاریخی نوعیت کے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت کو امریکا اور یورپ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں، انہوں نے خود کو ایک عملی سوچ رکھنے والا برطانوی شہری قرار دیا۔