ایکسپریس نیوز کے مطابق بحیثیت قائم مقام چیئرمین وفاقی سیکریٹری تعلیم کی دوسری مدت بھی پوری ہوگئی ہے لیکن وفاقی حکومت چیئرمین ایچ ای سی کی تقرری کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور اعلی تعلیم کے معاملے پر حکومتی سنجیدگی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
یہ ادارہ گذشتہ 6 ماہ سے اپنے آئینی سربراہ مستقل چیئرمین سے محروم ہے اور وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب کے پاس ادارے کا عارضی چارج ہے اب اس عارضی چارج کی مدت بھی بدھ کو ختم ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ بحیثیت قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی ندیم محبوب کی یہ 3 ماہ کی دوسری مدت تھی ایچ ای سی کے ایکٹ کے مطابق مستقل چیئرمین کے مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد کسی بھی رکن کمیشن کو تین ماہ کے لیے عارضی چارج دیا جاسکتا ہے جبکہ سیکریٹری تعلیم کو مسلسل دو مدتوں کے لیے عارضی چارج دیا جاچکا ہے۔
سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کی مدت ملازمت 29 جولائی 2025 کو پوری ہوگئی تھی ادھر وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت قائم تلاش کمیٹی search committee بھی اپنا کام مکمل کرکے تین موزوں امیدواروں کے ناموں کا پینل سمری کے ذریعے وزیر اعظم کو بھجواچکی ہے۔
کمیٹی کی جانب سے بھیجے گئے ناموں میں این ای ڈی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی، پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ اور قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ڈاکٹر نیاز احمد کے نام شامل تھے تلاش کمیٹی خود وزیر اعظم پاکستان نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے قائم کی تھی۔
ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے سیکریٹری تعلیم یا کسی اور کمیشن رکن کو چیئرمین کے عہدے کا مزید چارج دینے کی سمری تاحال وزیر اعظم ہاؤس کو بھجوائی نہیں گئی ہے کیونکہ وزیر تعلیم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایسی کوئی سمری بھجوائی جائے تو یہ خود وزارت کا تلاش کمیٹی پر عدم اعتماد ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت تعلیم کا ماننا ہے کہ تلاش کمیٹی تین موزوں امیدواروں کے ناموں کی سمری انٹرویوز کے بعد پہلے ہی وزیر اعظم کو بھجواچکی ہے اب یہ وزیر اعظم پر منحصر ہے کہ وہ چیئرمین کی تعیناتی کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ اب وفاقی حکومت کے پاس چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کے لیے وقت ختم ہوچکا ہے اور فوری طور پر چیئرمین کی تعیناتی نا ہونے سے ادارے میں ایک نیا بحران جنم لے گا۔