سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وقفہ دعا کیا گیا، جس میں پاکستان کی بقا و سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر سانحہ گل پلازہ کے شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی گئی جب کہ کراچی میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے بھی دعا کی گئی۔
پیپلز پارٹی کی رکن ہیر سوہو نے لاہور کے واقعے پر دعا کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ کیا اب لاہور کو بھی وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ ہوگا۔
اجلاس کے دوران اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ 14 سال کے بعد سندھ اسمبلی کامن ویلتھ کانفرنس کی میزبانی کر رہی ہے ۔ پوری سندھ اسمبلی اس عالمی کانفرنس کی میزبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سب کو ثابت کرنا ہے کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں ۔ ارکان اسمبلی اس کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں۔ اسپیکر نے بتایا کہ یہ کانفرنس 4 فروری کو سندھ اسمبلی میں ہوگی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے تحریک پیش کی کہ سندھ اسمبلی میں عالمی کانفرنس ہوگی اور اسمبلی ہال کو کانفرنس ہال میں تبدیل کیا جائے، جسے سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران محکمہ ٹرانسپورٹ سے متعلق سوالات کے جواب سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے دیے۔ ایم کیو ایم کے رکن نے ماڈل کالونی کے روٹ پر ریڈ بس کی بحالی سے متعلق سوال کیا جس پر شرجیل میمن نے کہا کہ مزید بسیں کراچی پورٹ پر موجود ہیں ۔ کراچی کی ہر سڑک پر جدید بسیں چلیں گی۔
وقفہ سوالات کے دوران شرجیل میمن نے بتایا کہ ٹریفک کے لیے اسمارٹ سسٹم پر کام ہو رہا ہے، سپاہی کے پاس وائرلیس سسٹم ہوتا ہے ۔ ٹریفک نظام آٹو میٹک اور مینوئل دونوں طریقوں سے چلتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک ڈپارٹمنٹ کی سفارشات کی بنیاد پر سگنلز لگائے جاتے ہیں ۔ ٹریفک کے یوٹرن بھی اسی حساب سے بنائے جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں ٹریفک ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے لیے اقدامات کیے تھے کیونکہ شہر میں موجود بس اڈوں کی وجہ سے ٹریفک کا رش بڑھتا تھا، جس پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے فیصلہ کیا کہ بسوں کو شہر سے باہر رکھا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ بس ٹرمینلز سے مفت شٹل سروس چل رہی ہے، سہراب گوٹھ بس اڈے سے بھی شٹل سروس جاری ہے جب کہ کراچی کے بس ٹرمینل والے خود چارج کرتے ہیں اور حکومت کا اس میں ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہو رہا۔
سینئر صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ 15 ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ نجی کمپنی کی جانب سے مفت ٹریننگ دی جا رہی ہے اور جن خواتین نے ٹریفک ٹیسٹ پاس کیا ہوگا انہیں اسکوٹی فراہم کی جائے گی۔
انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی کی سڑکیں بن رہی ہیں، کے ایم سی اور محکمہ بلدیات سڑکوں کی تعمیر کر رہے ہیں، کراچی میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں اور حال ہی میں وزیر اعلیٰ سندھ نے 90 ارب روپے مختص کیے ہیں۔