اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ میں تقریباً 70,000 فلسطینوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی ہے جب کہ اس سے قبل اسرائیل غزہ کی صحت حکام کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار پر شکوک کا اظہار کرتا رہا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے اب غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے وہی تخمینہ اختیار کر لیا ہے جو غزہ کی وزارت صحت اور اقوام متحدہ طویل عرصے سے درست قرار دیتے آ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی صحت وزارت کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار قابلِ اعتماد ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک 71 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکتوبر میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے 480 سے زائد افراد بھی شامل ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق ہزاروں افراد اب بھی غزہ کے تباہ شدہ علاقوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت ہلاک ہونے والوں کے نام اور عمریں بھی جاری کرتی ہے، تاہم وہ شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کرتی، البتہ اس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ اور دیگر بڑے میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا کہ جمعرات کو سینئر فوجی حکام کے ساتھ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ فوج کے اندازے کے مطابق جنگ کے دوران تقریباً 70 ہزار غزہ کے باشندے مارے گئے جب کہ لاپتہ افراد اس میں شامل نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک فوجی اہلکار نے کہا کہ اس وقت ہلاک ہونے والوں میں جنگجوؤں اور غیر متعلقہ افراد کے درمیان فرق کرنے کا کام جاری ہے۔
اسرائیلی فوج سے مؤقف طلب کیے جانے پر ترجمان نے کہا کہ شائع ہونے والی تفصیلات اسرائیلی دفاعی افواج کے سرکاری اعداد و شمار کی عکاسی نہیں کرتیں، اور اس حوالے سے کوئی بھی باضابطہ معلومات سرکاری ذرائع سے جاری کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیل میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت شہریوں کی تھی، جب کہ جنگ کے دوران 470 سے زائد اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے۔