کانگو میں کان گرنے کا واقعہ، ہلاک افراد کی تعداد 200 سے زائد ہوگئی

مشرقی افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں کولٹن کی ایک کان منہدم ہونے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے کانکنوں کی تعداد 200 سے تجاوز کرگئی ہے، ہلاک افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی حالت میں اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق افسوسناک واقعہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی حصے میں واقع روبایا کے علاقے میں پیش آیا، جہاں کولٹن کی ایک آرٹی سینل (غیر رسمی) کان اچانک منہدم ہوگئی۔

کانگو کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اموات میں اضافہ ہوتا گیا۔

حکام کے مطابق حادثے میں اب تک 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ کم از کم 20 زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو کان کنی کے مقام پر موجود تھے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں باغی گروہوں کی جانب سے تعینات گورنر کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ ہلاکتیں رواں ہفتے کے اوائل میں پیش آنے والے اسی کان حادثے کا نتیجہ ہیں۔ روبایا کا علاقہ باغی گروہوں کے زیرِ کنٹرول ایک اہم معدنی ذخائر کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

یہ حادثہ ایک ایسی غیر رسمی کان میں پیش آیا جہاں کولٹن کے وافر ذخائر پائے جاتے ہیں۔

کولٹن ایک اہم دھاتی معدنیات ہے جو اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے، جبکہ روبایا کا علاقہ عالمی سطح پر اسمارٹ فون انڈسٹری کے لیے خام مال فراہم کرنے والے اہم مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔

Similar Posts