منصوبے کے تحت پانچ سال میں 610 برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں نمائش کی سہولت دی جائے گی جبکہ کاروبار کی رجسٹریشن، صوبائی ہم آہنگی اور سہولیات کے لیے مرکزی اتھارٹی بنانے کی بھی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ اتھارٹی میں وفاقی اور صوبائی نمائندے شامل ہوں گے جبکہ ادارہ قومی جمیز اسٹوںن پالیسی کا نگراں ہوگا۔
نیشنل ورائٹی آفس قائم اور برآمد نہ ہونے والے سامان کی واپسی یقینی بنائی جائے گی، برآمد کندگان کو لین دین آسان بنانے کے لیے ای پیمنٹ گیٹ ویز کی سہولیات دی جائے گی۔
قیمتی پتھروں کی قانونی تجارت بڑھانے کے لیے 6 ورکنگ گروپس قائم کر دیے گئے ہیں جن میں بینکاری و مالی امور میں بہتری، غیر فروخت شدہ مال کے ری فنڈ سے متعلق ورکنگ گروپ شامل ہیں۔ گروپس کان کنی کے شعبے میں جدت اور کاروبار کی رجسٹریشن پر بھی کام کریں گے۔
حکام کے مطابق رجسٹریشن اور ٹریسی ایبلیٹی سے 6کروڑ ڈالر سے زائد کی ویلیو ایڈیشن متوقع ہے، تمام ادارے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کی سہہ ماہی رپورٹ وزارت کو دیں گے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں 450ارب ڈالر سے زائد مالیت کے قیمتی پتھر موجود ہیں۔ پاکستان میں 200 ملین قیراط یاقوت، 70 ملین قیراط زمرد اور دیگر قیمتی پتھر ہیں۔ پرانے طریقوں کے ذریعے پراسیسنگ سے 70فیصد تک قیمتی پتھر ضائع ہو رہے ہیں۔