بلوچستان میںدہشت گردی کی آگ

بلوچستان میں دہشت گردی محض ایک صوبہ تک محدود نہیں اورنہ ہی اسے ایک صوبائی فریم ورک کی بنیاد پر دیکھ کر نتائج اخذ کرنا چاہیے۔یہ جنگ پاکستان کی جنگ ہے اور اس کا اثر ملک کی مجموعی سیاست،معیشت اور سیکیورٹی کے حالات پر دیکھنے کو ملے گا۔ ہماری سیاسی اشرافیہ کا المیہ یہ ہی ہے کہ ہم دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تانے بانے کو یا تو محض صوبائی فریم ورک اور علاقائی سیاست تک محدود ہوکر دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں جو ہمیں موثر حکمت عملی کو ترتیب دینے میں مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

دہشت گردوں کی جانب سے جو حالیہ کارروائی بلوچستان کے نو شہروں میں ہوئی ہے وہ ایک سنگین مسئلہ کی نشاندہی کرتی ہے ۔اگرچہ ہم نے دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں خود کش حملہ آوروں سمیت 145دہشت گرد ہلاک کیے ہیں ، بی بی سی کے مطابق خود ہمارے 17سیکیورٹی اہلکار اور 31شہری بھی شہید ہوئے ہیں ۔ دہشت گرد افراد نے سرکاری عمارتوں اور بینک کو بھی نشانہ بنایا،ڈی سی نوشکی کو اغوا کیا اور قیدیوں کو بھی چھڑایا گیا ہے ۔یہ سب بلوچستان کے حالات کی غیر معمولی تصویر پیش کرتے ہیں جو اس وقت ہم سے بھی غیر معمولی اقدامات کی توقع کرتے ہیں ۔دہشت گردی کے واقعات کی شدت اس قدر خوفناک تھی کہ اگر ہمارے سیکیورٹی ادارے اور پولیس کے جوان بروقت جرات مندانہ کارروائی نہ کرتے تو زیادہ نقصان ہوسکتا تھا ۔بلوچستان میں ان تمام واقعات کی ذمے داری بی ایل اے یعنی بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے۔

ان دہشت گردوں کی جانب سے پسنی، مستونگ،پنجگور، نوشکی،قلات، دالبندین، گوادر، کوئٹہ میں ہونے والے واقعات دہشت گردی کی اس بڑی لہر کا نتیجہ ہیں جو ہمیں کئی دہائیوں سے درپیش ہیں۔ہم بار بار اس نقطہ کو اپنی داخلی اور عالمی سیاست میں اجاگر کررہے ہیں ۔اسی طرح ہم نے کئی اہم مواقع پر عالمی دنیا کے سامنے وہ تمام شواہد بھی رکھے ہیں کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی اور دہشت گردوں کا براہ راست تعلق بی ایل اسے ہے ان کو بھارت سمیت کئی بڑے ممالک کی سیاسی،انتظامی ،مالی اور عسکری سہولیات بھی حاصل ہیں اور اس کے پیچھے واحد مقصد بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرکے پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنا ہے۔

ہماری سیکیورٹی کو دہشت گردی سے جڑے معاملات میں بیرونی مداخلتوں بالخصوص بھارت کی سازشوں کا سامنا ہے مگر ہمارے اداروں نے دہشت گردی سے نمٹنے میں بڑا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے اس حالیہ دہشت گردی کی مہم کو 2.0کا نام دیا گیا تھا مگرہمارے سیکیورٹی کے جوانوں نے بڑی تیزی سے چند گھنٹوں میں علاقے کو بڑے پیمانے کی تباہی سے بچایا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ یہ دہشت گردی کے حملے فتنہ الہندوستان کی جانب سے کیے گئے جسے بی ایل اے کا ایک غیر ملکی سرپرست یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کہا جاتا ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی قیادت بیرون ملک محفوظ ہے جب کہ چند بلوچ نوجوانوں کو خود کش حملوں اور براہ راست جھڑپوں جیسے خطرناک مشن میں دھکیلا جا رہا ہے ،ان میں سے بیشتر وہ لوگ جو مقابلوں میں ہلاک ہوجاتے ہیں ان کو پھر گمشدہ افراد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس سے سیاسی مقاصد حاصل ہوں۔

دہشت گردی کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہم غیر معمولی حالات کا شکار ہیں اور بالخصوص جب ہم بھارت کی براہ راست مداخلت پر زور دیتے ہیں تو حالات کی نوعیت اور زیادہ سنگین ہوجاتی ہے ۔ایسے میںایک بات ہمیں یہ بھی سمجھنی ہوگی کہ بلوچستان میں ہمیں بیرونی مداخلت کی بنیاد پر جس بڑی دہشت گردی کا سامنا ہے اس کا صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ یہ جو صوبائی سطح کے اقدامات ہوتے ہیں اس کا براہ راست تعلق امن و امان کی صورتحال سے ہوتا ہے ۔جب کہ دہشت گردی کی جنگ کی صورت میں وفاقی ،صوبائی اور انٹیلی جنس یا سیکیورٹی اداروں کے درمیان باہمی رابطہ کاری اور موثر مشترکہ حکمت عملی اور اقدامات کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔

صوبہ بلوچستان میں سیاسی حکومت کی اپنی کارکردگی اور صلاحیت ایک حد تک محدود ہے ۔ صوبہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی جنگ کے خاتمے میں وفاقی حکومت کا بھی کردار زیادہ موثر ہونا چاہیے۔وفاقی اور صوبائی حکومت نے اس جنگ کا سارا بوجھ سیکیورٹی اداروں پر ڈال دیا ہے اور تاثر یہ دیا جاتا ہے اس جنگ کے فیصلے کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہے۔ اصل میں دہشت گرد جو حالیہ واقعات میں کمزور ہوئے ہیں اور ہماری سیکیورٹی اداروں کی طرف سے ان کو کافی پسپائی کا سامنا بھی ہے۔ وہ ایسی صورتحال میں حالیہ گیارہ مقامات پر دہشت گردی کے واقعات کی بنیاد پر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ کمزور نہیں ہوئے ہیں اور ان کی رٹ آج بھی موجود ہے ۔ وہ ایک خوف کی فضا قائم کرکے اپنی رٹ کی مضبوطی کی جنگ لڑرہے ہیں کہ وہ جہاں چاہیں حملے کرسکتے ہیں ۔ایک مسئلہ ہمیں بلوچستان کی دہشت گردی کی بنیاد پر سفارت کاری کے محاذ پر ہے۔

بھارت سمیت دیگر ممالک کی براہ راست پاکستان کے امور میں مداخلت اور دہشت گردوں کی ہر سطح پر سرپرستی کے باوجود ہم ابھی تک کوئی بڑا ایسا اقدام نہیں اٹھا سکے جو بھارت کو کسی بڑی گرفت میں لا سکے۔ حالانکہ سب ہی یہ جانتے ہیں کہ بھارت براہ راست بلوچستان کے معاملات میں نہ صرف مداخلت کررہا ہے بلکہ بی ایل اے کی سرپرستی بھی وہیں سے ہورہی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کا علاج کیسے تلاش کیا جائے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ پہلی بار دہشت گردوں نے گیارہ شہروں کو ایک ساتھ نشانہ بنایا ہے جس میں کوئٹہ بھی شامل ہے جس میں سیکیورٹی کے انتظامات دیگر شہروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔عمومی طور پر کوئٹہ کو مضبوط شہر سمجھا جاتا ہے اور دہشت گردوں کی جانب سے اس پر حملہ ایک واضح پیغام بھی ہے کہ بڑے شہر بھی ہم سے محفوظ نہیں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم سے غلطی کہاں ہورہی ہے۔

دہشت گرد ہماری داخلی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اپنی دہشت گردی کی رٹ کو مضبوط کرتے ہیں ۔ کیا سب کچھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اپنی صلاحیتوں کی ناکامی ہے یا پھر ہم اس سارے معاملات کو بھارت اور بی ایل اے کے باہمی گٹھ جوڑ کی بنیاد پر دیکھنا ہوگا۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے بقول جو دہشت گرد مارے گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کی لاشیں ملی ہیں۔یہ بات اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اگر ہم نے ان معاملات میں کوئی جامع حکمت عملی ترتیب نہ دی تو دہشت گرد بلوچستان سے باہر نکل کر بھی دہشت گردی کرسکتے ہیں۔اس لیے ہمیں دہشت گردی کی اس جنگ میں زیادہ خبردار اور ہوشیار رہنا ہوگا اور معاملات میں ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

سیکیورٹی سطح پر اداروں نے جتنی تیزی سے دہشت گردوںکو ہلاک کیا ہے وہ اس نتیجہ کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے سیکیورٹی ادارے الرٹ تھے اور انھوں نے فوری طور پر دہشت گردوں کو بڑی تعداد میں نشانہ بنایا ہے ۔ دہشت گردی کا یہ کھیل پاکستان میں جاری ہے اور آگے بھی یہ جلدی ختم نہیں ہوگا۔ہمیں محض بلوچستان ہی نہیں بلکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردی کا سامنا ہے ۔ افغانستان اور بھارت کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی اور دوسری جانب بھارت بی ایل ایل کی سرپرستی کرتا ہے۔

بھارت اور افغانستان ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی مدد سے پاکستان کو غیر محفوظ کرنا چاہتے ہیں ،یہ پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔اس چیلنج سے نمٹنا کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں بلکہ حکومت ، تمام اداروں اور تمام سیاستدانوں کو اس جنگ کی قیادت کرنا ہوگی۔

Similar Posts