بھارتی پارلیمنٹ میں ایپسٹین فائلز اور سابق آرمی چیف کی کتاب پڑھنے پر پابندی

بھارت کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں کچھ ایسا ہے جو ابھی ریلیز نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے نریندر مودی سخت دباؤ میں ہیں۔ اسی دباؤ کی وجہ سے انہوں نے نے عجلت میں امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس سے قبل چین سے متعلق معاملے پر گفتگو کے دوران حکومتی اراکین اور اسپیکر نے انہیں بولنے نہیں دیا اور اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

بھارتی پارلیمنٹ کے موجودہ بجٹ سیشن کے دوران قائد حزبِ اختلاف راہول گاندھی کے خطاب اور اس کے بعد ہونے والے ایوان میں ہنگاموں نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران سابق آرمی چیف جنرل منوج نراوانے کی آپ بیتی سے اقتباسات پیش کرنے کی کوشش کی، جس پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راہول گاندھی نے تقریر کے دوران بھارت کی دفاعی تیاریوں پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک میگزین آرٹیکل کا حوالہ دیا، جس میں جنرل نراوانے کی کتاب کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ 2020 میں لداخ میں چینی ٹینک بھارتی پوزیشنز کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے۔ اس معاملے پر حکومت کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے فوج کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ ایوان میں شدید ہنگامہ شروع ہوگیا، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ فوراً نشستوں سے کھڑے ہوئے اور اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے اعتراض کیا کہ ایوان کے قواعد کے تحت کسی ایسی کتاب یا تحریر کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا جو ابھی شائع ہی نہیں ہوئی۔

اس شور شرابے کے باعث راہول گاندھی مزید گفتگو نہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ وہ دہشت گردی سے لڑتے ہیں مگر وہ ایک کتاب کے اقتباس سے اتنا گھبرائے ہوئے ہیں کہ اسے پڑھنے نہیں دے رہے ہیں۔

اسپیکر نے بھی پارلیمانی قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے راہول گاندھی کو گفتگو سے روک دیا جس پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا۔ اسپیکر نے ہنگامہ آرائی کے الزام پر کانگریس کے 8 ارکان کو بھی معطل کر دیا ہے۔

پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو صدر کے خطاب پر بات کرنے سے روکا گیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم سخت دباؤ میں ہیں اور اسکی وجہ صرف میں اور نریندر مودی ہی جانتے ہیں، جس سے ان کی شہرت کا غبارہ پھوٹ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈرے ہوئے ہیں، اِسے لیے اُنہیں ایوان میں گفتگو نہیں کرنے دی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی حالیہ بھارت امریکا تجارتی معاہدے کے بعد غیر مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ کئی ماہ سے زیر التوا تھا، تاہم اچانک اُسے حتمی شکل دے دی گئی جو مودی حکومت پر بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین فائلز میں کچھ ایسا ہے جو ابھی ریلیز نہیں ہوا ہے اور یہ نریندر مودی کے لیے پریشر پوائنٹ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت پر گوتم اڈانی کے خلاف امریکا میں کیس اور ایپسٹین فائلز کا شدید دباؤ ہے۔

پارلیمنٹ میں ہنگامے کی وجہ بننے والی کتاب دراصل سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نراوانے کی غیر مطبوعہ کتاب ’فور اسٹارز آف ڈیسٹِنی‘ ہے۔ جس کے اقتباسات ’دی کاروان‘ نامی جریدے میں شائع ہوئے۔

سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نراوانے کی غیر مطبوعہ کتاب “Four Stars of Destiny “ میں موجود انکشافات، جنہیں فروری 2026 میں ایک جریدے (The Caravan) نے شائع کیا، پارلیمنٹ میں ہنگامے کی اصل وجہ بنے۔

اپنی یادداشت پر مبنی کتاب میں جنرل نراوانے نے 2020 میں ’گلوان‘ کے مقام پر بھارتی اور چینی افواج کی جھڑپ سے متعلق انکشاف کیا ہے کہ 31 اگست کی رات مشرقی لداخ میں سرحدی علاقے میں جھڑپ کے بعد چینی ٹینک بھارتی پوزیشنز کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔

انہوں نے لکھا کہ جب انہوں نے سیاسی قیادت (وزیرِ دفاع اور وزیراعظم) سے جوابی کارروائی یا فائرنگ کے لیے احکامات مانگے، تو انہیں واضح حکم دینے کے بجائے کہا گیا کہ ’جو مناسب سمجھو وہ کرو‘۔ جنرل نراوانے کے بقول یہ ان کے ہاتھ میں ’گرم آلو‘ تھمانے جیسا تھا تاکہ تمام تر ذمہ داری فوج پر ڈال دی جائے۔

واضح رہے کہ یہ کتاب جنوری 2024 میں شائع ہونی تھی، لیکن بھارتی وزارتِ دفاع نے حساس معلومات اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا حوالہ دے کر اس کی اشاعت روک رکھی ہے۔

Similar Posts