مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے کام کررہے ہیں۔ روس یوکرین جنگ بندی پر اچھی خبر آنے کی توقع ہے۔
امریکا کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات شروع ہونے کی خبرایک ایسے عالمی اور علاقائی تناظر کی عکاسی ہے جس میں طاقت، دباؤ، مفادات اور بقا کی سیاست ایک دوسرے میں گتھی ہوئی نظر آتی ہے۔
حالات کی سنگینی، خطے میں جاری جنگوں اور عالمی معیشت پر بڑھتے دباؤ نے دونوں فریقوں کو ایک بار پھر بات چیت کی میز کی طرف آنے پر مجبور کردیا ہے۔ ایران محدود سفارتی راستے اختیار کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
ایران کی معیشت طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، تیل کی برآمدات محدود ہیں، مالیاتی نظام عالمی منڈی سے کٹا ہوا ہے اور مہنگائی و بے روزگاری نے عام شہری کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے میں ایرانی قیادت کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ مکمل طور پر تصادم کی پالیسی پر قائم رہے۔
ایران نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ دھمکیوں، غیر معقول مطالبات اور دباؤ سے پاک ماحول میں ہی مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ یہ بیان دراصل امریکا کے اس ماضی کی طرف اشارہ ہے جب جوہری معاہدے کے باوجود یکطرفہ طور پر اس سے دستبرداری اختیار کی گئی اور ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
یہی تجربہ ایران کو امریکا کے کسی بھی وعدے پر مکمل اعتماد سے روکتا ہے۔ اس پس منظر میں اگر ترکیہ میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو یہ ایک محتاط مگر اہم قدم ہے، کیونکہ یہ براہِ راست مذاکرات کے بجائے ایک محفوظ سفارتی راستہ فراہم کرتا ہے جس میں فریقین اپنی پوزیشن واضح کر سکتے ہیں۔
امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مزاحمتی تنظیموں کی حمایت کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، جب کہ ایران انھیں اپنی دفاعی ضرورت اور خطے میں طاقت کے توازن کا لازمی حصہ قرار دیتا ہے۔
ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ضمانتیں چاہتا ہے۔ بیلسٹک میزائل پروگرام اور مزاحمتی تنظیموں سے دستبرداری کو ناممکن قرار دینا، اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ایران اپنی بنیادی دفاعی پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، چاہے اس کے بدلے میں معاشی ریلیف کی پیشکش ہی کیوں نہ ہو۔
یہی سخت مؤقف مذاکرات کو مشکل بناتا ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکا بھی اب یہ سمجھنے لگا ہے کہ ایران کو مکمل طور پر جھکانا ممکن نہیں۔امریکا اس وقت بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف ہے۔
یوکرین اور روس کی جنگ نے مغرب کو معاشی اور عسکری طور پر تھکا دیا ہے، مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جب کہ چین کے ساتھ معاشی اور ٹیکنالوجیکل مقابلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ ایسے میں امریکا کے لیے ایران کے ساتھ ایک اور مکمل محاذ کھولنا نہایت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کا یہ اندازہ کہ امریکا کا ایران پر فوری فوجی حملہ رواں ہفتے متوقع نہیں، اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فی الحال واشنگٹن عسکری تصادم سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
ایران کے خلاف کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ تیل کی ترسیل متاثر ہوگی، عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی اور خطے میں موجود امریکی اتحادی بھی عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا یہ کہنا کہ اگر امریکا نے جنگ شروع کی تو یہ علاقائی جنگ بن جائے گی، دراصل ایک واضح انتباہ ہے۔ ایران کے پاس نہ صرف اپنی فوجی صلاحیت ہے بلکہ خطے میں اس کے اتحادی بھی موجود ہیں جو کسی بھی تصادم کی صورت میں متحرک ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا اس بیان پر ردعمل، جس میں انھوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدہ ہو جائے گا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو نتائج سامنے آ جائیں گے، امریکی حکمت عملی کی اسی دوہری نوعیت کو ظاہر کرتا ہے جس میں مذاکرات اور طاقت کا مظاہرہ بیک وقت جاری رہتا ہے۔
اسی دوران امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے کا اعلان عالمی سیاست میں ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے بھارت پر لگائے گئے ٹیرف میں کمی اور روسی تیل کی خریداری کم کرنے پر اتفاق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا معاشی تعلقات کو جغرافیائی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
بھارت کے ساتھ اس معاہدے کے ذریعے امریکا نہ صرف اپنی معیشت کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے بلکہ روس پر دباؤ بڑھانے اور ایشیا میں اپنی اسٹرٹیجک پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
یورپ کے بارے میں امریکی تنقید کہ وہ بھارت سے تجارتی معاہدوں کے ذریعے اپنی ہی جنگ کو فنڈ کر رہا ہے، مغربی اتحاد کے اندر موجود اختلافات کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکا یوکرین اور روس کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے کام کر رہا ہے اور ایران کے معاملے پر بات چیت جاری ہے، اس امر کو واضح کرتا ہے کہ امریکا عالمی سطح پر تنازعات کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہے، مگر یہ کوششیں اکثر تضادات کا شکار نظر آتی ہیں۔
ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف بحری بیڑے روانہ کیے جاتے ہیں اور پابندیوں کا دباؤ برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہی تضاد ایران کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کے لیے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، جب کہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے اسٹرٹیجک اور معاشی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں پاکستان کو توانائی، تجارت اور سلامتی کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک متوازن اور دور اندیش سفارتی پالیسی اپنائے جو خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دے۔
عالمی منظرنامہ اس وقت شدید غیر یقینی کا شکار ہے۔ طاقت کی سیاست، معاشی دباؤ اور سفارتی جوڑ توڑ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اگر کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہوگا۔
پابندیوں میں نرمی سے عالمی توانائی منڈی میں استحکام آ سکتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، تاہم اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایسی صورت میں تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا اور دنیا ایک اور بڑے بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات میں طاقت کے مظاہرے کے بجائے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔
ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اگر حقیقت پسندانہ اور متوازن فیصلے کیے جائیں تو ایک ایسا راستہ نکالا جا سکتا ہے جو نہ صرف تمام فریقین کے اپنے مفادات بلکہ خطے اور دنیا کے امن کے لیے بھی مفید ہو۔
پاکستان کے پالیسی سازوں کو تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی عالمی صف بندیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ان تبدیلیوں کا محور اور مرکز پاکستان کے ارد گرد ہے۔
چین اور امریکا دنیا کے سب سے بڑے کاروباری حریف ہیں‘ان کے ساتھ ساتھ یورپی یونین ‘بھارت اور برطانیہ بھی طاقتور کاروباری اکائیاں ہیں۔یہ کاروباری ممالک اور اتحاد اپنے اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں۔
ان کے باہمی تعلقات خوشگوار بھی ہیں اور کشیدہ بھی ‘اس کی وجہ کاروباری مفادات ہی ہیں۔چین اپنے انداز میں اپنی منڈیوں کو محفوظ بنانے کی کوششیں کر رہا ہے جب کہ امریکا ‘یورپی یونین ‘انڈیا اور برطانیہ اپنی الگ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
ایک دوسرے کے ساتھ معاملات طے ہو رہے ہیں اور کاروبار کا حجم مقرر کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف روس بھی ایک بڑی معیشت ہے لیکن وہ پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یوکرین کی جنگ میں بھی الجھا ہوا ہے۔
وہ بھی اپنے معاملات کو درست کرنے میں پوری جدوجہد کر رہا ہے۔ادھر ایرا ن اور امریکا کے درمیان صورت حال بھی سب کے سامنے ہے۔پاکستان اس صف بندی کے سینٹر میں موجود ہے۔پاکستان کو اپنی اس پوزیشن کو مدنظر رکھ کر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پالیسی تشکیل دینی چاہیے