شہر قائد میں جاری کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے دوسرے روز کو اہم عالمی مباحث کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ کانفرنس کے ایجنڈے میں فیک نیوز کے بڑھتے ہوئے رجحان، موسمیاتی تبدیلی کے عالمی اثرات، جمہوری اقدار کے فروغ، مختلف ممالک کے نمائندوں کے درمیان مشترکہ حکمت عملی، باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، عالمی چیلنجز کے مؤثر حل کی تلاش اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال شامل تھا۔
سی پی اے کانفرنس کے دوسرے روز فیک نیوز اور آرٹیفشل انٹیلیجنس سے متعلق سیشن کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس کی میزبانی شرمیلا فاروقی نے کی جب کہ پینل ڈسکشن میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیپ فیک اور اے آئی سے تیار کردہ جعلی مواد حکومت اور معاشرے دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ اے آئی سے تیار جعلی مواد معاشرے کو مجموعی طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ محکمۂ اطلاعات 24 گھنٹے صورتحال کی نگرانی میں مصروف ہے، تاہم جعلی و حقیقی مواد کی شناخت کے لیے مؤثر نظام کی ضرورت ہے، جس کے لیے اے آئی ڈیٹیکشن ٹول کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ٹی وی چینلز کے نام پر جھوٹی خبریں پھیلانے کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔ آواز و ویڈیوز کی نقل سازی کے ذریعے غلط معلومات عام کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت فیس بک، ایکس، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ جعلی مواد پھیلانے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ جھوٹی معلومات کسی کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے فیک نیوز کو پورے معاشرے کے لیے سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے مضبوط قانون سازی ضروری ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ پہلے سے نافذ ہے تاہم اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے کیونکہ غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون سازی تمام طبقات کے لیے یکساں ہونی چاہیے ۔ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کا احتساب، قانونی کارروائی اور سزا ضروری ہے۔
جعلی خبروں، اے آئی اور غلط معلومات سے متعلق سیشن میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیپ فیکس اور اے آئی سے پیدا شدہ جعلی مواد معاشرے اور عوامی رائے پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزانہ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر آنے والے مواد کی نگرانی کرے اور فوری طور پر جعلی معلومات کی نشاندہی کرے۔
انہوں نے عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ جعلی مواد پھیلانے کے نتائج ہوتے ہیں ۔ قانون کے تحت ذمہ داریاں طے ہیں۔ انہوں نے ایف آئی اے جیسے وفاقی اداروں کے کردار کو بھی اجاگر کیا جو جعلی مواد کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔
قومی اسمبلی کے رکن دانیال چوہدری نے کہا کہ جعلی خبروں کے حوالے سے حکومت کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم فیک نیوز سے متعلق متعدد دیگر پہلوؤں پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں اے آئی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ مستقبل میں فیک نیوز کے حوالے سے مزید جامع فریم ورک اور قوانین کی ضرورت ہے۔
بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کی رکن فرح عظیم شاہ نے کہا کہ غلط معلومات حادثاتی نہیں بلکہ جان بوجھ کر پھیلائی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گرد گروہ جعلی خبریں اور بدلی ہوئی ویڈیوز استعمال کرتے ہیں جن کا مقصد سیکیورٹی فورسز کا حوصلہ کمزور کرنا، شہریوں میں خوف پیدا کرنا اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ردعمل خوف، سنسرشپ یا جذباتی نہیں بلکہ پُرسکون، قانونی اور شفاف رابطے پر مبنی ہے، جہاں بروقت، تصدیق شدہ اور مسلسل معلومات افواہوں کے پھیلاؤ کو روکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاموشی شک پیدا کرتی ہے جب کہ وضاحت اعتماد کو فروغ دیتی ہے۔ مقامی زبان و ثقافتی حساسیت کے ساتھ معلومات پہنچانا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
فرح عظیم شاہ نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کے درد کو پوری قوم محسوس کرتی ہے ۔ برائیاں برے لوگوں سے نہیں بلکہ اچھے لوگوں کی خاموشی سے جنم لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ جھوٹے بیانیے کے ذریعے خوف پھیلاتے ہیں۔ اس سلسلے میں اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
سی پی اے کانفرنس کا دوسرا سیشن موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے رکھا گیا، جس کی میزبانی سینیٹر شیری رحمان نے کی۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک کا بے دریغ استعمال ہمیں کینسر کی جانب دھکیل رہا ہے ۔ کتابوں کی بائڈنگ تک میں پلاسٹک ریپر کا استعمال خطرناک ہے، جو بریسٹ کینسر سمیت دیگر بیماریوں کو جنم دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ ری سائیکلنگ نہیں کر رہے جب کہ صنعت کم لاگت والے حل نظرانداز کررہی ہے حالانکہ زمینی سطح پر عملی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
شیری رحمان نے پانی، درخت اور ہوا کو محدود وسائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو لامحدود وسیلہ نہ سمجھا جائے کیونکہ بلوچستان کا زیر زمین پانی ختم ہو چکا ہے اور صرف پنجاب کے زیر زمین ذخائر میں میٹھا پانی باقی ہے جو تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ لامحدود پانی فراہم نہیں کر سکتا، مون سون بارشیں عارضی مدد دیتی ہیں ۔ بعض اوقات سیلاب کا باعث بھی بنتی ہیں جب کہ سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا عمل فوری حل نہیں ہے۔
قومی اسمبلی کی رکن تمکین اختر نیازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی صاف کرنے کے جدید طریقوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فضائی آلودگی کے حوالے سے قابلِ قدر کام کر رہا ہے اور کچھ حد تک بہتری حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر اسلام آباد میں این ڈی ایم اے اور دیگر ادارے فعال ہیں، وزیر اعظم خود ان علاقوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ این ڈی ایم اے سیٹلائٹ امیجنگ کے ذریعے سیلاب، ہیٹ ویو اور خوراک و پانی کی کمی کے ممکنہ علاقوں کی نشاندہی اور نگرانی کر رہا ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ماحولیاتی اقدامات صرف حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ بھی ہیں۔ اس موقع پر عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر اہداف کے حصول میں بھرپور تعاون کریں۔