ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی جو وفاقی وزیر بھی ہیں نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جن کا کراچی سے تعلق نہیں وہ یہاں حکومت کر رہے ہیں اور جو یہ خدمت گورنر ہاؤس سندھ میں ہو رہی ہے وہ ہر سیاست سے بڑی ہے۔
جب کہ سندھ کی حکومت نے عملی طور پر کچھ کرنے کی بجائے سانحہ گل پلازہ پر صرف سیاست کی ہے اور سانحہ پر سیاست کرنے کا اپنے مخالفین پر غلط الزام لگا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی بارود کے ڈھیر پر بسا ہوا ہے۔ سانحات، وارداتوں اور حق تلفیوں کے بارود بچھائے گئے ہیں اور اب اس شہر کو ملبے کا ڈھیر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعلیٰ سندھ کراچی کی داد رسی نہیں کریں گے تو سندھ کا گورنر ہاؤس سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے اور یہ گورنر ہاؤس اس شہر کی ضمانت اور امانت بن گیا ہے۔
انھوں نے اعلان کیا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والوں کو گورنر سندھ کی طرف سے پلاٹ دیے جائیں گے۔اس موقع پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ کو اب کراچی کی مقامی انتظامیہ کے وسائل اتنے نہیں کہ کسی بڑے سانحے سے لوگوں کو بچا سکے ، اس کی وجہ یہاں کی آمدنی کراچی پر خرچ نہیں کی جا رہی جو اس کا حق ہے۔
پیپلز پارٹی کے سوا ہر سیاسی جماعت نے سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کے سربراہ اور میئر کراچی پر کڑی تنقید کی ہے اور سندھ حکومت کو سانحہ کا ذمے دار قرار دے کر دونوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے جس پر وزیروں کا کہنا ہے کہ وہ سیاست کر رہے ہیں۔
لاہور میں بھاٹی گیٹ پر رات کے اندھیرے میں ایک خاتون اور ان کی بچی کے گٹر میں گرنے کا جو واقعہ ہوا ہے ایسے واقعات تو کراچی میں ہونا معمول ہے۔ کراچی شہر کے گٹروں، غیر محفوظ کھلے ہوئے گندے گٹروں میں گرنے سے ہلاکتوں کا ریکارڈ بن چکا ہے۔
کراچی کے شہری شاہراہوں، بازاروں اور اپنے گھروں کے دروازوں پر بھی محفوظ نہیں ہیں جہاں ڈاکو راج سالوں سے چلا آ رہا ہے مگر سندھ حکومت کھلے گٹروں اور نالوں کو شہریوں کے لیے محفوط بنا سکی ہے نہ اسٹریٹ کرائم پر قابو پا سکی ہے۔
سندھ حکومت خاص کر صحت کے مقابلے میں دوسرے صوبوں سے آگے ہونے کے مسلسل دعوے کرتی آ رہی ہے اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو تو دعویٰ کر چکے ہیں کہ سندھ کا ترقی میں صوبوں سے نہیں بلکہ دنیا سے مقابلہ ہے۔
کاش! صوبائی دارالحکومت کراچی میں ترقی پر توجہ دی ہوتی جہاں پیپلز پارٹی کی 17 سالہ حکومت ہے۔ کراچی کے فنڈز بھی سب سے زیادہ ہیں۔
کراچی کے اربوں روپے کے فنڈزکراچی کی ترقی اور شہریوں کے بنیادی مسائل کے حل پر خرچ نہیں کیے جاتے ۔کراچی میںکو اس کا حق نہیں دیا جاتا۔ اندرون سندھ بھی کوئی مثالی ترقی نہیں ہے۔
پنجاب میں مریم نواز کی حکومت کو ابھی دو سال ہی ہوئے ہیں اور لاہور سمیت پورے پنجاب کو بدلنے کے دعوے ہو رہے ہیں مگر صرف لاہور ہی نہیں بدل سکا ہے۔
بھاٹی گیٹ واقعہ بھی جاری ترقیاتی کاموں کے دوران متعلقہ لوگوں کی غفلت و لاپرواہی کے باعث پیش آیا ۔ سندھ کے مقابلے میں لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ زیادہ اہم نہیں کیونکہ سانحہ گل پلازہ میں 80 افراد کی جھلسنے سے ہلاکتیں اور چالیس افراد کا پتا ہی نہ چلنے اور بروقت آگ پر قابو پانے میں ناکامی، ملک بھر میں بدنامی کا باعث بن گئی جس پر حکومت سے مستعفی ہونے اور کراچی کو وفاق یا فوج کے حوالے کیے جانے کے مطالبے سامنے آئے ہیں۔