احتجاج کے باعث پورٹ قاسم سے قائد آباد آنے اور جانے والا ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاجی وکلاء نے ایس ایچ او سکھن خالد میمن کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گزشتہ روز باڑے میں لین دین کے تنازع کے دوران ان پر بھینسوں میں استعمال ہونے والے انجکشن سے حملہ کیا گیا۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد انہوں نے متعدد بار پولیس سے میڈیکل لیٹر کے لیے درخواست کی، تاہم پولیس نے تاخیر سے لیٹر جاری کیا۔
وکلاء نے مزید الزام لگایا کہ حملہ آور تھانے میں موجود تھے اور ایس ایچ او نے یقین دہانی کرائی کہ میڈیکل کروانے کے بعد ملزمان کو نہیں چھوڑا جائے گا، لیکن جیسے ہی میڈیکل کراکر پہنچے تو ایس ایچ او خالد میمن نے مبینہ طور پر حملہ آوروں کو فرار کرا دیا۔
احتجاجی وکلاء کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او نے انہیں یہ کہہ کر مقدمہ درج کرنے سے بھی انکار کر دیا کہ بھلے تم وکلاء ہو، میں مقدمہ درج نہیں کروں گا۔
وکلاء نے واضح اعلان کیا ہے کہ جب تک ایس ایچ او سکھن کو عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا ان کا دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔
دوسری جانب واقعے سے متعلق ایس ایچ او سکھن خالد میمن کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آ سکا جبکہ علاقے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔