امام بارگاہ خودکش دھماکا، حملہ آور سے مبینہ قریبی تعلق پر 4 افراد پشاور سے گرفتار

اسلام آباد میں امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے حملہ آور سے مبینہ طور پر قریبی تعلق رکھنے والے 4 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسلام آباد خودکش دھماکے کے حملہ آور سے قریبی تعلق والے 4 افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

ذرائع نے بتایا کہ دھماکے میں ملوث سہولت کاروں اور معاونت فراہم کرنے والوں کے لیے اسپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں انسداد دہشت گردی کے افسران شامل ہیں۔

حکام نے بتایا کہ حملہ آور کے موجودہ اور سابقہ ٹھکانوں سے متعلق ملنے والی اطلاعات پر کام جاری ہے اور قومی شناختی کارڈ میں درج ایڈریس والے  گھر پر چھاپے مارے گئے ہیں اور چھاپوں کے دوران متعدد گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

قبل ازیں وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امام بارگاہ کے خودکش حملہ آور کی شناخت ہوگئی اور تمام معلومات حاصل کرلی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور افغانستان کا شہری نہیں تھا لیکن ان کی افغانستان سفر کرنے کی تفصیلات مل گئی ہیں اور ہوسکتا ہے  72 گھنٹوں کے اندر اندر ہم اس کو انجام تک پہنچا دیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش دھماکے میں 32 نمازی شہید اور 162 زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے 29 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

 

Similar Posts