ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا پاکستان کا دوسرا سرکاری دورہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب محض خیرسگالی یا رسمی سفارت کاری تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک منظم، طویل المدتی اور ہمہ جہت شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پاکستان ازبکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں پائی جانے والی گرمجوشی اس اعتماد کی عکاس تھی جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔
اس دورے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، آئی ٹی، زراعت، ماحولیاتی تبدیلی، تعلیم، ثقافت، کھیل، عوامی روابط، انسداد منشیات اور ادارہ جاتی تعاون سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اور قابلِ عمل اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ 29 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط اس امر کا ثبوت ہیں کہ دونوں ریاستیں بیانات اور خواہشات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی راہ پر گامزن ہیں۔دو طرفہ تجارتی حجم کو آیندہ پانچ برسوں میں دو ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف نہایت اہم اور بروقت ہے۔
موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی اصل صلاحیتوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے، جس کی بنیادی وجہ ماضی میں روابط کا فقدان، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے مسائل اور مؤثر تجارتی فریم ورک کی کمی رہی ہے، تاہم حالیہ معاہدے اس خلا کو پُرکرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہیں، اگر ان پر درست سمت میں عملدرآمد کیا گیا تو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت میں غیر معمولی اضافہ ممکن ہے۔ ازبکستان وسطی ایشیا کی ایک اہم معیشت ہے جو معدنی وسائل، زراعت، ٹیکسٹائل اور صنعتی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان جنوبی ایشیا کی ایک بڑی منڈی، نوجوان آبادی، صنعتی بنیاد اور سب سے بڑھ کر بحیرہ عرب تک براہ راست رسائی رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے وسائل، ضروریات اور صلاحیتیں ایک دوسرے کے لیے قدرتی طور پر ہم آہنگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس شراکت داری کو خطے میں ایک’’ ون او ون‘‘صورتحال قرار دے رہے ہیں۔
کراچی،گوادر اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں پر کارگوکنٹینرز سے متعلق معاہدہ اس تعاون کا ایک کلیدی ستون ہے۔ ازبکستان چونکہ ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے، اس لیے اسے عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے قابلِ اعتماد اورکم لاگت راستوں کی شدید ضرورت ہے۔
پاکستان کی بندرگاہیں ازبکستان کو نہ صرف بحیرہ عرب کے ذریعے عالمی تجارت سے جوڑ سکتی ہیں بلکہ مستقبل میں وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک اہم تجارتی گیٹ وے بن سکتی ہیں۔ اس تعاون سے پاکستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ، بندرگاہی خدمات، لاجسٹکس اور انفرا اسٹرکچر کی ترقی میں خاطر خواہ فائدہ ہوگا، جب کہ ازبکستان کو اپنی برآمدات اور درآمدات میں سہولت اور لاگت میں کمی میسر آئے گی۔ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت اشیائے تجارت کی فہرست میں توسیع ایک اور اہم قدم ہے۔ اس سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت، جو ملکی برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، ازبکستان کی منڈی میں اپنی موجودگی بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح ازبکستان کی کپاس، زرعی مصنوعات اور دیگر اشیاء پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ مشترکہ منصوبوں اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے دونوں ممالک عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی حیثیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے میں تعاون موجودہ عالمی حالات میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے غذائی تحفظ کو ایک سنگین عالمی مسئلہ بنا دیا ہے۔ پاکستان اور ازبکستان دونوں زرعی ممالک ہیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی، بیجوں کی بہتری، آبپاشی کے نظام اور زرعی تحقیق میں تعاون سے دونوں ممالک اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں مفاہمتی یاد داشتیں مستقبل کی معیشت کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا رہی ہے۔ ازبکستان بھی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ای گورننس، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل تعلیم میں تعاون نوجوان نسل کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ تعلیم، سائنسی تحقیق اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کسی بھی دیرپا شراکت داری کی بنیاد ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آف پشاور اور تاشقند یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیزکے درمیان تعاون، اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے اداروں کے درمیان روابط اور پاکستان ازبکستان ایکسپرٹ کونسل کا قیام فکری ہم آہنگی اور پالیسی سازی میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس طرح کے ادارہ جاتی روابط مستقبل کے رہنماؤں، محققین اور پالیسی سازوں کو ایک دوسرے کے قریب لائیں گے۔
دفاعی تعاون اور ایکشن پلان پر دستخط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کے خواہاں ہیں۔ ازبک صدرکا گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنزکا دورہ اور جدید دفاعی ساز و سامان میں دلچسپی پاکستان کی دفاعی صنعت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ پیداوار اور تربیت کے شعبوں میں تعاون نہ صرف دونوں ممالک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی مستحکم کر سکتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تعاون آج کے دور کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ پاکستان اور ازبکستان دونوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا ہے، چاہے وہ سیلاب ہوں، خشک سالی ہو یا درجہ حرارت میں اضافہ۔ مشترکہ حکمت عملی، معلومات کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے دونوں ممالک ان چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹ سکتے ہیں۔ یہ تعاون اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ماحولیاتی مسائل سرحدوں کو نہیں مانتے۔ثقافت، کھیل اور عوامی روابط سے متعلق معاہدے اس شراکت داری کو انسانی اور سماجی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
مشترکہ ثقافتی ورثہ، تاریخی روابط اور مذہبی ہم آہنگی پاکستان اور ازبکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ثقافتی تبادلوں، کھیلوں کے مقابلوں اور عوامی سطح پر روابط سے دونوں معاشروں میں باہمی احترام اور سمجھ بوجھ کو فروغ ملے گا۔انسداد منشیات، سزا یافتہ مجرموں کے تبادلے اور قانونی تعاون سے متعلق معاہدے علاقائی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ منشیات کی اسمگلنگ اور سرحد پار جرائم پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔
مشترکہ اقدامات اور معلومات کے تبادلے سے ان مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ادارہ جاتی تعاون، شفافیت اور احتساب سے متعلق معاہدے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک گڈ گورننس اور قانون کی حکمرانی کو اپنی ترقی کا بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو اور ازبکستان کی اینٹی کرپشن ایجنسی کے درمیان تعاون بدعنوانی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا مظہر ہے، جو کسی بھی مضبوط ریاست کے لیے ناگزیر ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان اور ازبکستان کے درمیان طے پانے والے یہ 29 معاہدے اور ایم او یوز ایک ایسے جامع اور دور اندیش وژن کی نمائندگی کرتے ہیں جو محض دو طرفہ مفاد تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی اور استحکام کی نوید لے کر آیا ہے۔ تاہم اصل کامیابی کا دارومدار ان معاہدوں پر مؤثر، شفاف اور بروقت عملدرآمد پر ہے۔ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ معاہدوں کی افادیت اس وقت تک محدود رہتی ہے جب تک انھیں عملی جامہ نہ پہنایا جائے۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ فالو اپ میکنزم قائم کریں، نجی شعبے کو اعتماد میں لیں، بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کریں اور عوامی سطح پر بھی تعاون کے ثمرات کو نمایاں کریں۔ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستان اور ازبکستان کی یہ شراکت داری نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک مضبوط، پائیدار اور خوشحال رابطے کی بنیاد بھی رکھے گی۔ یہی وہ موقع ہے جس سے فائدہ اٹھا کر دونوں ممالک اپنی مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مفادات کو ایک روشن اور مستحکم مستقبل میں تبدیل کر سکتے ہیں۔