تفصیلات کے مطابق ہیکاتھون کا مقصد ملک میں کوانٹم ریسرچ کیلیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ہیکاتھون میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کیلیے کوانٹم ٹیکنالوجی پر مبنی حل کی تیاری پر کام ہو رہا ہے۔
ہیکاتھون کو اقوام متحدہ اور یورپی تنظیم برائے نیوکلیئر تحقیق (سرن) کی بین الاقوامی معاونت بھی حاصل ہے۔ مقابلوں کیلیے ملک بھر سے 950 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔
سخت انتخابی جانچ کے بعد 42 فائنلسٹ منتخب کیے گئے، شرکاء قومی اور بین الاقوامی ماہرین کی نگرانی میں جدید ‘کوانٹم پروسیسنگ یونٹس’ استعمال کرتے ہوئے مقابلہ کریں گے۔
چیئر مین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور کا کہنا تھا کہ ہیکاتھون میں شریک نوجوان پاکستان کے مستقبل کے سائنسی قائدین ہیں۔ کوانٹم ٹیکنالوجی اب ایک تصور نہیں بلکہ عملی حقیقت بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عصرِ حاضر کے پیچیدہ مسائل کے حل میں کوانٹم ٹیکنالوجی کا کردار نہایت اہم ہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن قومی ترقی کیلیے انسانی وسائل پر بھرپور سرمایہ کاری کر رہا ہے۔