اے آئی کے میدان میں چین امریکہ ٹکراؤ

0 minutes, 26 seconds Read
مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیٹا، الگورتھمزاور کمپیوٹنگ پاور کے امتزاج سے کام کرتی ہے۔ الگورتھمز بڑی مقدار میں ڈیٹا کو پراسیس کر کے ان میں موجود پیٹرنز (نمونے) تلاش اور پیش گوئیاں کرتے ہیں، جسے ’’مشین لرننگ‘‘کہا جاتا ہے۔یہ عمل خصوصی ہارڈویئر جیسے ’’جی پی یوز (GPUs)‘‘ کے ذریعے انجام پاتا ہے، جو ضروری کمپیوٹیشنل پاور فراہم کرتے ہیں اور ان نظاموں اور ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے بجلی درکار ہوتی ہے۔

اہم اجزا

٭ڈیٹا:مصنوعی ذہانت کے نظام وسیع ڈیٹا سیٹس پر تربیت پاتے ہیں جن میں متن، تصاویر، آواز، اور دیگر معلومات شامل ہو سکتی ہیں تاکہ وہ ان سے سیکھیں اور پیٹرنز کو پہچان سکیں۔

٭الگورتھمز:یہ ریاضیاتی ماڈلز اور قواعد ہوتے ہیں جنہیں اے آئی ڈیٹا کو پراسیس کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ انہیں اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ سیکھ سکیں، مطابقت اختیار کریں اور پیش گوئیاں یا فیصلے کر سکیں۔

٭کمپیوٹنگ پاور:خصوصی ہارڈویئر، خاص طور پر ’’گرافیکل پروسیسنگ یونٹس (GPUs)‘‘ وہ اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ فراہم کرتے ہیں جو اے آئی ماڈلز کی تربیت اور ان کے چلنے کے لیے ضروری پیچیدہ حسابات کو انجام دیتی ہے۔

٭بجلی:وہ ہارڈویئر جو اے آئی نظاموں کو چلاتا ہے، خاص طور پر وہ ’’ڈیٹا سینٹرز‘‘ جہاں اے آئی ماڈلز کی تربیت اور نفاذ ہوتا ہے، ان کے لیے بجلی کی زیادہ اور مسلسل فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔

این ویڈیا: اسٹاک کا اْتار چڑھاؤ بھرا سال

امریکہ میں گرافک کارڈ بنانے والی این ویڈیا اس وقت دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں سے ایک ہے ۔ پچھلے سال یہ سب سے پہلے 4 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ ویلیو عبور کرنے والی کمپنی بنی تھی۔ یہ اے آئی کو ٹریننگ دیتے گرافیکل پروسیسنگ یونٹس بنانے میں نمایاں برتری رکھتی ہے۔ مگر چینی کمپنیاں اب اپنی ساختہ چپس کی طرف رخ کر رہی ہیں، جو ایشیائی مارکیٹ میں این ویڈیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

این ویڈیا کے سی ای او ،جینسن ہوانگ کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی اس امریکی دیو کمپنی اور امریکا، دونوں کو چین کے حوالے سے ایک بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ چین ہارڈویئر بنانے میں جو اے آئی کے عروج سے فائدہ اٹھانے کے لیے نہایت اہم ہے، امریکی چپ ساز کمپنیوں سے صرف ’’نانو سیکنڈز پیچھے‘‘ ہے۔ اگرچہ این ویڈیا اس وقت اے آئی کے میدان میں غالب ہے، لیکن اس کی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور کمپنی کے اسٹاک کی کارکردگی میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

اب ایک بڑا چیلنج سامنے آ رہا ہے: چین این ویڈیا پر مزید دباؤ ڈالتا نظر آ رہا ہے، کیونکہ چینی کمپنیاں اے آئی کے میدان میں اس امریکی دیو کو چیلنج دینے کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔جس دن ہوانگ کی پوڈکاسٹ نشر ہوئی، اسی دن نیوز سائٹ ، بلومبرگ نے اطلاع دی کہ چینی اے آئی کمپنی، iFlytek اپنے بڑے لسانی ماڈلز (large language models) کی تربیت ہواوے کی Ascend چپس پر کر رہی ہے۔ یہ ایک بڑا تغیر ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں امریکی پابندیوں کے جواب میں این ویڈیا کے ہارڈویئر کی جگہ ملکی متبادل استعمال کر رہی ہیں۔

یہ اْن واضح ترین اشاروں میں سے ایک ہے کہ چین امریکا پر اپنی چپ انحصاری کو ختم کرنے کے لیے جو کوششیں کر رہا ہے، وہ اب مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ ایک اہم تبدیلی ہے جس پر وہ سرمایہ کار خاص نظر رکھے ہوئے ہیں جن کے مفادات این ویڈیا اسٹاک سے وابستہ ہیں۔

این ویڈیا کو امریکا میں بھی مسائل کا سامنا ہے۔ پچھلے سال جولائی میں واشنگٹن نے چین کو H20 پروسیسرز کی فروخت پر پابندی لگانے کا اعلان کیا، مگر بعد میں فیصلہ واپس لے لیا۔ ایسی برآمدی پابندیاں کمپنی کی آمدنی پر اثر ڈال سکتی ہیں، کیونکہ چین این ویڈیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے۔

کمپنی نے 27 اگست کو جاری ہونے والی اپنی مالی سال کی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ میں بتایا کہ چین میں H20 چپ کی فروخت سے آمدنی ’’صفر‘‘ رہی۔ مزید یہ کہ انتظامیہ نے مالی سال کی تیسری سہ ماہی کی 54 ارب ڈالر کی آمدنی کی پیش گوئی میں چین میں H20 کی فروخت کو شامل نہیں کیا۔

پچھلے سال ماہ اگست ہی میں این ویڈیا نے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت اسے چین میں اپنی اے آئی H20 چپس فروخت کرنے کا لائسنس مل گیا، لیکن اس کے بدلے کمپنی کو چین میں چپ فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 15 فیصد امریکی حکومت کو دینا ہوگا۔

2025 ء میں بار بار ہونے والی تجارتی بات چیت اور مصنوعی ذہانت پر اخراجات کی سست رفتاری کے خدشات نے این ویڈیا کے اسٹاک کو ایک غیر یقینی سفر پر ڈال دیا۔ بہرحال اپریل کی کم ترین سطح سے حصص میں زبردست اضافہ ہوا … 115 فیصد سے زیادہ اور وہ نئی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئے۔اسی ہفتے، سی ای او جینسن ہوانگ نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ گزشتہ چھ ماہ میں مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ کی مانگ میں “نمایاں اضافہ” ہوا ہے۔انہوں نے CNBC کو بتایا: ’’مجھے لگتا ہے ہم ایک نئے تعمیراتی دور کے آغاز پر ہیں … ایک نئی صنعتی انقلاب کی ابتدا۔‘‘ ہوانگ کے مطابق، این ویڈیا کے بلیک ویل (Blackwell) گرافکس پروسیسنگ یونٹس کے لیے مانگ ’’انتہائی زیادہ‘‘ ہے۔

چین کی اے آئی چپس پر سختی

ٹرمپ کی برآمدی پابندیوں کے فوراً بعد چین نے این ویڈیا کے خلاف اپنے اقدامات شروع کیے۔فائنانشل ٹائمز کے مطابق چینی ریگولیٹرز نے کمپنیوں کو خبردار کیا کہ وہ H20 چپس نہ خریدیں اور ان سے وضاحت طلب کی کہ وہ مقامی متبادل کے بجائے این ویڈیا کو کیوں ترجیح دیں۔اب یہ دباؤ این ویڈیا کی نئی خصوصی چپ ،rtx pro 6000 تک پھیل چکا ہے۔چین کی سائبر سپیس اینڈمنسسٹریشن نے علی بابا اور ByteDance (جو TikTok کی پیرنٹ کمپنی ہے) سمیت کئی کمپنیوں کو حکم دیا کہ وہ اس چپ کی ٹیسٹنگ بند کریں اورخریداری کے منصوبے معطل کر دیں۔

اس اقدام نے دراصل چین میں این ویڈیا کی آخری بڑی پروڈکٹ لائن کو بند کر دیا جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت میں کمپنی کی اہم ترین پیشکشوں میں سے ایک تھی۔ہوانگ نے ستمبر میں کہا کہ انہیں مایوسی ہوئی ہے کہ بیجنگ نے بڑی چینی ٹیک کمپنیوں کو ان پروسیسرز کی خریداری سے روک دیا ہے جو خاص طور پر ان کی مارکیٹ کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔

 این ویڈیا کی چین میں مشکلات

ابھی تک واضح نہیں کہ چین نے خاص طور پر این ویڈیا کو کیوں نشانہ بنایا ہے۔ کرس ملر کا کہنا ہے، جو ایک کتاب ’’”Chip War: The Fight for the World’s Most Critical Technology”‘‘ کے مصنف اور امریکی ٹفٹس یونیورسٹی کے فلیچر اسکول کے پروفیسر ہیں ’’بیجنگ ممکنہ طور پر امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات سے پہلے دباؤ بڑھانے کے لیے ایسا کر رہا ہے، ساتھ ہی وہ طویل المدتی ہدف کے طور پر غیر ملکی سیمی کنڈکٹرز پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔گزشتہ چند دہائیوں میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ چین نے تقریباً ہر چیز گھریلو سطح پر تیار کرنا سیکھ لیا ہے۔چپس وہ واحد پروڈکٹ ہیں جو چین اب بھی بڑی مقدار میں درآمد کرتا ہے، کیونکہ فی الحال چین اتنی بڑی تعداد میں انتہائی جدید چپس تیار نہیں کر سکتا جتنی اس کی مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے درکار ہے۔‘‘

ستمبر کے وسط میں چینی ریگولیٹرز نے کہا کہ ایک ابتدائی تحقیق میں این ویڈیا کو ملک کے اینٹی مونوپولی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا ہے اور یہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے اگست میں تصدیق کی کہ این ویڈیا چین میں کچھ اے آئی چپس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 15 فیصد واشنگٹن کو ادا کرے گی۔

اس سے قبل ہوانگ نے چین کو 50 ارب ڈالر کی ایک بڑی کاروباری مارکیٹ کے طور پر بیان کیا تھا جس میں سالانہ 50 فیصد تک کی ممکنہ ترقی دیکھی جا رہی تھی مگر اب اس ورژن کو نئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔کرس ملر کے مطابق، امریکا میں اے آئی کی بڑھتی ہوئی مانگ خصوصاً اوپن آئی، گوگل اور ایمیزن جیسی کمپنیوں کی جانب سے پہلے ہی این ویڈیا کی فروخت میں چین کی اہمیت کو کم کر چکی ہے۔

اسی دوران امریکی برآمدی پابندیوں نے این ویڈیا کو اپنی سب سے جدید چپس چین میں فروخت کرنے سے روک رکھا ہے، جس کے باعث کمپنی اب اس مارکیٹ پر پہلے کی نسبت کم انحصار کرتی ہے۔ملر نے مزید کہا:’’جیسے ہی چین جدید ترین مصنوعات گھریلو سطح پر تیار کرنے کے قابل ہو جاتا ہے، وہ غیر ملکی مصنوعات کی خریداری میں زبردست کمی کر دیتا ہے ، بعض صورتوں میں بالکل بند کر دیتا ہے۔ یہی خطرہ این ویڈیا کے لیے بھی ہے، جیسے ہر دوسرے مینوفیکچرر کے لیے۔ اگر چین وہی بنا سکتا ہے جو آپ بنا سکتے ہیں، تو وہ آپ کی مصنوعات خریدنا چھوڑ دیتا ہے۔‘‘

این ویڈیا کے چینی حریف

این ویڈیا کے گرافکس پروسیسرز اب بھی صنعت کا ’’بینچ مارک معیار‘‘ سمجھے جاتے ہیں۔تاہم بیجنگ اب کمپنی پر انحصار کم کرنے اور مقامی متبادل فروغ دینے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہا ہے۔برطانوی اخبار فائنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ چینی ریگولیٹرز نے حال ہی میں ہواوے، کیمبرکون (Cambricon)، علی بابا (Alibaba)، اور بائیدو (Baidu) کو طلب کیا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ ان کے پروسیسرز این ویڈیا کی چین خصوصی مصنوعات کے مقابلے میں کہاں کھڑے ہیں۔

ریگولیٹرز کے مطابق چینی اے آئی چپس اب کارکردگی کے لحاظ سے تقریباً مساوی سطح پر پہنچ چکی ہیں اور بعض صورتوں میں امریکی برآمدی پابندیوں کے تحت اجازت یافتہ ماڈلز سے بھی بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،جیسا کہ فائنانشل ٹائمز نے ایک نام ظاہر نہ کرنے والے ذریعے کے حوالے سے بتایا۔

چِپس کی جنگ عالمی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور مصنوعی ذہانت اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتوں میں سے ایک ہے۔این ویڈیا کے لیے اس مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کھونا اس بات کے مترادف ہے کہ حریف کمپنیاں اے آئی اپنانے کے سب سے بڑے میدانوں میں سے ایک میں قدم جما سکتی ہیں اور یہ کمپنی کے مستقبل کے اسٹاک کی ترقی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔کرس ملر کے مطابق:’’اصل سوال یہ ہے کہ چین کب اتنی بڑی تعداد میں اعلیٰ معیار کی چپس گھریلو سطح پر تیار کرنے کے قابل ہو گا، جتنی اسے اپنی طلب پوری کرنے کے لیے درکار ہیں؟‘‘

درج ذیل کچھ بڑی چینی کمپنیاں ہیں جو چین میں اس خلا کو پْر کرنے کے لیے تیزی سے دوڑ رہی ہیں:

ہواوے

ملر کے مطابق ہواوے اب تک کی سب سے اہم چینی کمپنی ہے جو این ویڈیا کو چیلنج کر رہی ہے۔یہ ٹیلی کام اور الیکٹرانکس کی دیو کمپنی اب اپنی Ascend نامی اے آئی چپس تیار کر رہی ہے۔

ہواوے کے گاہکوں میں iFlytek جیسی اے ائی ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں، جنہوں نے کہا ہے کہ ان کے بڑے لسانی ماڈلز (LLMs) مکمل طور پر ہواوے کے کمپیوٹنگ پلیٹ فارم پر تربیت یافتہ ہیں۔

تاہم ملر کے مطابق ہواوے کا سب سے بڑا چیلنج مینوفیکچرنگ ہے۔ان کا کہنا ہے ’’یہ اس وقت ایک بڑا رْکاوٹ والا نکتہ ہے۔ چین کی بڑی کمپنیوں کو جدید ترین چِپ سازی کے آلات تک رسائی حاصل نہیں ہے جو یورپ، امریکا یا جاپان میں تیار کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ ابھی تک اتنی بڑی تعداد میں اعلیٰ درجے کی چپس تیار نہیں کر سکتیں جو چین کی اندرونی مانگ پوری کر سکیں۔‘‘

اسی لیے ہواوے کے سامنے ایک اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنے چینی پارٹنرز یعنی حقیقی چِپ مینوفیکچررز کی کس طرح مدد کرے تاکہ وہ اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکیںاور ہزاروں کی تعداد میں، پھر لاکھوں کی تعداد میں چپس تیار کرنے کے قابل بن سکیں۔

امریکی اخبار،وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ستمبر میں ہواوے نے اپنی Ascend چپ لائن میں نئے ماڈلز متعارف کروانے کا اعلان کیا، جو اے ائی ورک لوڈز کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔اگلی چپ اس سال کے آغاز میں متوقع ہے۔

اگرچہ اس کے پروسیسرز ابھی تک جدید فیچرز کے لحاظ سے این ویڈیا سے پیچھے ہیں،لیکن ہواوے کا ماننا ہے کہ اس کی نیٹ ورکنگ ٹیکنالوجی کئی چپس کو ایک ساتھ جوڑ کر مجموعی کمپیوٹنگ پاور میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ملر کے مطابق:’’ہواوے اور اس کے پارٹنرز چینی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں کچھ پیش رفت کر رہے ہیں۔ ہمیں توقع رکھنی چاہیے کہ مستقبل میں یہ کمپنی اے آئی چپس کی بڑی مقدار میں پیداوار کرنے لگے گی۔‘‘

علی بابا

ہواوے کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہے: امریکی پابندیوں کے باعث اس کی چپس این ویڈیا کے پلیٹ فارم پر نہیں چل سکتیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں علی بابا ، این ویڈیا کے ایک اور طاقتور چینی چیلنجر کو برتری حاصل ہے۔علی بابا ایک نئی چپ تیار کر رہا ہے جو این ویڈیا کے ہارڈویئر کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے جس سے انجینئرز این ویڈیا کے لیے بنائے گئے پروگراموں کو دوبارہ استعمال کر سکیں گے۔

علی بابا اپنی مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے میں بھی بھرپور سرمایہ کاری کر رہا ہے۔پچھلے سال خزاں میں کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے 53 ارب ڈالر کے اے ائی انفراسٹرکچر بجٹ سے بھی زیادہ سرمایہ لگانے کا ارادہ رکھتی ہے،کیونکہ سی ای او ایڈی وو ( Wu Eddie ) کے مطابق، اے ائی کی مانگ توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

علی بابا کی زیادہ تر آمدنی اس کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ بزنس سے آتی ہے،جہاں وہ ایمزون ویب سروسز (AWS)، مائیکروسافٹ، اور گوگل کے ساتھ ایشیا میں مقابلہ کرتا ہے ،اگرچہ ای کامرس اب بھی اس کا دنیا بھر میں سب سے بڑا کاروبار ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ علی بابا کبھی این ویڈیا کے سب سے بڑے صارفین میں سے ایک تھا۔لیکن اب کمپنی نے ایک نئی چپ تیار کر لی ہے جو پہلے کے ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ ہمہ جہت (versatile) بتائی جا رہی ہے۔حالیہ ستمبر میں علی بابا نے اپنا سب سے بڑا اے ائی لینگویج ماڈل، Qwen3-Max-Instruct متعارف کروایا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ این ویڈیا کے ترقیاتی ٹولز کا ایک مجموعہCloud Alibaba میں ضم کرے گی تاکہAI Physical یعنی روبوٹکس اور خودکار گاڑیوں جیسے شعبوں میں ترقی کو سہارا دیا جا سکے۔بیجنگ کی حالیہ پابندیوں کے برعکس علی بابا نے اس شراکت داری کو این ویڈیا کے ساتھ ایک سنگِ میل تعاون (milestone collaboration ) قرار دیا۔

کمپنی کا کلاؤڈ ڈویژن امریکی کمپنی کے مکمل Stack AI Physical کو اپنائے گا تاکہ ’’انسان نما روبوٹس‘‘ کی تیاری کو فروغ دیا جا سکے۔اس خبر کے بعد علی بابا کے اسٹاک میں زبردست اضافہ ہوا۔ حصص نے 11 ستمبر کو ایک طویل مدتی استحکام (consolidation) سے بریک آؤٹ کیااور محض دو ہفتوں کے اندر 20 فیصد منافع حاصل کرنے کے زون میں پہنچ گئی۔

 MetaX

یہ شنگھائی میں قائم ایک اے آئی اسٹارٹ اپ ہے جس کی بنیاد امریکی ٹیک کمپنی، AMD کے سابق انجینئروں نے رکھی۔اس کے چیئرمین چین وی لیانگ ( Weiliang Chen ) پہلے اے آیم ڈی میں جی پی یو پروڈکٹ ڈیزائن کے عالمی سربراہ رہ چکے ہیں۔

پچھلے سال ماہ جولائی میں MetaX نے ایک نئی چپ متعارف کروائی جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ این ویڈیا کی H20 چپ کی جگہ لے سکتی ہے۔اس پروسیسر میں زیادہ میموری ہے، جس سے یہ کچھ اے آئی کے کاموں میں برتری حاصل کرتا ہے،تاہم اس کی بجلی کی کھپت بھی زیادہ ہے۔

ماہ اگست تک کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ اس چپ کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے تیاری کر رہی ہے۔رائٹرز کے مطابق MetaX کو پچھلے تین سالوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ،جس کی بڑی وجہ اس کے تحقیقی و ترقیاتی (R&D) سرگرمیوں پر بھاری اخراجات ہیں۔

Moore Threads

چین کی اس کمپنی کی بنیاد 2020 میں این ویڈیا کے سابق ملازمین نے رکھی۔اس کے چیئرمین ،زانگ جیانژونگ ( Jianzhong Zhang ) پہلے این ویڈیا کے چین آپریشنز کے جنرل منیجر رہ چکے ہیں۔کمپنی کا بنیادی فوکس جی پی یو GPU ڈیزائن پر ہے،اور اسے بڑی کمپنیوں جیسے بائیٹ ڈائنس اور ٹینسینٹ سے سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے۔تاہم، اکتوبر 2023 میں امریکا نے اس کمپنی کو اپنی  Entity List میں شامل کر لیا،جس کے نتیجے میں کمپنی کی امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہو گئی۔

 Cambricon

کیمبرکون ٹیکنالوجیز (Technologies Cambricon ) نے جو بیجنگ میں قائم ایک اے آئی چپ ساز کمپنی ہے، پچھلے سال اپریل تا جون سہ ماہی میں 247 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کی —جس کا سہرا اس کے Siyuan 590 پروسیسر کی زبردست مانگ کو جاتا ہے۔گزشتہ کئی ماہ کے دوران کمپنی کے شیئرز کی قیمت دگنی ہو چکی ہے اورجو اس کے حریفوں اور بڑے انڈیکسز، دونوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔

تاہم کچھ عرصہ قبل کمپنی نے ایک باضابطہ اطلاع (filing) میں سرمایہ کاروں کو خبردار کیا کہ اس کے اسٹاک میں سرمایہ کاری خطرے سے خالی نہیںکیونکہ اس کی قیمت بنیادی مالی حقائق سے بہت آگے نکل چکی ہے اور اس کا پرائس ٹو ارننگ ریشو (P/E) صنعت کے اوسط سے 5000 گنا زیادہ ہے۔اس وارننگ کے بعد اگلے دن اس کے شیئرز میں 5.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی،تاہم کمپنی کا اسٹاک اب بھی چین کے سب سے قیمتی شیئرز میں شمار ہوتا ہے۔

 Baidu

بائیڈو چین کی مشہور سرچ انجن اور مصنوعی ذہانت (AI) سروسز کمپنی ہے۔یہ اپنے سرورز اور خودکار گاڑیوں (self-driving cars) کے لیے Kunlun برانڈ کے تحت اپنی چپس تیار کرتی ہے۔چین کے حکومتی ریگولیٹرز نے بائیڈو، ہواوے، کیمبرکون اور علی بابا کو بلایا تھاتاکہ ان کی چپس کا این ویڈیا کی ٹیکنالوجی سے موازنہ کیا جا سکے۔

اس سے بائیڈو کو چین کے بڑے ملکی چپ ساز اداروں میں شامل کیا گیا۔ماہ جولائی میں بائیڈو نے اپنی جدید ترین ’’ڈیجیٹل ہیومن ٹیکنالوجی‘‘ متعارف کرائی،جو کاروباری اداروں کے لیے بنائی گئی ہے۔یہ ٹول صرف 10 منٹ کی ویڈیو سے کسی شخص کی آواز، اندازِ گفتگو اور جسمانی حرکات کی نقل تیار کرتے ہوئے ورچوئل لائیو اسٹریم ہوسٹس تخلیق کر سکتا ہے ۔

Biren Technology

نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق بیرین ٹیکنالوجی ، ایک چینی اے آئی چپ ساز کمپنی نے پچھلے سال جولائی میں 1.5 ارب یوان کی نئی فنڈنگ حاصل کی اور اب ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کی تیاری کر رہی ہے۔

کمپنی جنرل پرپز جی پی یوز اور ایک سافٹ ویئر پلیٹ فارم تیار کرتی ہے جو ڈویلپرز کو اس کے ہارڈویئر پر ایپلی کیشنز بنانے کی سہولت دیتا ہے۔اس کی Bili سیریز پروڈکٹ ڈیٹا سینٹرز کے لیے بنائی گئی ہیںاور اسے اے آئی ٹریننگ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔گزشتہ سال امریکا نے بیرین ٹیکنالوجی کو بھی اپنیList Entity میں شامل کر لیا تھا،جس سے کمپنی کی امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہو گئی۔

 Tencent

ٹینسینٹ نے بھی اپنے کلاؤڈ بزنس کے لیے اندرونِ خانہ اے آئی ایکسیلیریٹرز تیار کیے ہیںتاکہ این ویڈیا پر انحصار کم کیا جا سکے۔پچھلے سال شنگھائی اے آئی کانفرنس میں ٹینسینٹ نے اپنا ’’نیا اے آئی ماڈل‘‘ پیش کیا،جو کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

این ویڈیا کا مستقبل

اہم سوال یہ ہے کہ:کیا چینی چپ ساز کمپنیاں واقعی این ویڈیا کے برابر آ سکتی ہیں؟ تجزیہ کار کرس ملر کے مطابق:’’شاید ایک دن ایسا ہو، مگر ابھی وہ وقت قریب نہیں۔‘‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ کا بنیادی ہدف’’ اے آئی خودمختاری‘‘ (Sovereignty AI ) ہے یعنی ایسے ماڈلز تیار اور چلانے کی صلاحیت جو مکمل طور پر چینی ہارڈویئر پر مبنی ہوں۔

کرس ملر کے بقول:’’سوال یہ ہے کہ چین اپنی اندرونی ضرورت کتنی پوری کر سکتا ہے؟ کیا وہ برآمدات کے لیے بھی چپس بنا سکتا ہے؟فی الحال، یہ راستہ ابھی بہت طویل ہے۔اور چینی پالیسی سازوں، ہواوے اور اس کے تمام شراکت داروں کا مرکزی مقصد چپ پیداوار کو ’’تیزی سے بڑھانے‘‘ کے طریقے تلاش کرنا ہے۔‘‘

Similar Posts