بھارت کی ریاست آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے نشر کی گئی ویڈیو نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں سمیت دیگر حلقوں نے اس ویڈیو کو اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اُکسانے اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی، جس کے بعد ویڈیو ڈیلیٹ کر دی گئی۔
بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ ویڈیو آسام کی بی جے پی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی تھی۔ جس میں وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کو رائفل چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر جوڑی گئی ہیں جن میں ٹوپی پہنے باریش افراد کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اٹھارہ سیکنڈ کی اس متنازع ویڈیو پر ’بالکل قریب سے گولی مارنا‘ کی عبارت بھی درج تھی اور تین میں سے ایک تصویر پر پاکستانی ہائی کمیشن لکھا دیکھا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ کچھ مناظر میں وزیر اعلیٰ کو مغربی طرز کے فلمی ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا۔ ویڈیو کے آخر میں مقامی زبان میں ’غیر ملکیوں سے پاک آسام‘، ’پاکستان کیوں نہیں گئے‘ اور ’بنگلہ دیشیوں کے لیے کوئی معافی نہیں‘ جیسے الفاظ بھی لکھے گئے تھے۔
واضح رہے کہ شدید تنقید کے بعد یہ ویڈیو بی جے پی آسام کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈل سے ہٹا دی گئی تھی۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سوشل میڈیا ہینڈلز پر اب یہ ویڈیو وائرل ہوچکی ہے۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعت کانگریس نے اِسے قابلِ نفرت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹرولنگ نہیں بلکہ اقلیتوں کے خلاف تشدد کی کھلے عام ترغیب ہے۔
کانگریس نے ویڈیو کو نسل کشی پر اکسانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے عدالت سے نوٹس لینا کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس رہنما سُپریا شریناتے نے کہا کہ یہ ویڈیو بی جے پی کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے ۔ اس نفرت انگیز اور پرتشدد سوچ کے ذمہ دار نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ویڈیو ڈیلیٹ کرنا کافی نہیں ہے اور سوال اٹھایا کہ ادارے اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔
اس تنازع کے بعد وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے ماضی کے بیانات بھی دوبارہ سامنے آ گئے ہیں، جن میں انہوں نے ’مِیا‘ برادری کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی۔ یہ اصطلاح آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمان شہریوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ماضی میں وہ یہ بیان دے چکے ہیں کہ ان کا کام ’مِیا برادری‘ کے افراد کو تکلیف میں ڈالنا ہے۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا تھا کہ اگر رکشہ چلانے والا ’مِیا برادری‘ کا مسلمان ہو تو اُسے کم کرایہ دیا جائے۔
آل انڈیا ترنمول کانگریس آسام نے ایکس پر جاری بیان میں ہیمنتا بسوا سرما پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی آدمی ہے جس نے پہلے عوام پر زور دیا تھا کہ وہ رکشہ کے کم کرایے ادا کرکے اقلیتوں کو ہراساں کریں، لیکن اب ظلم کی انتہا ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع ریاست آسام میں مقامی آبادی اور بنگالی نژاد مسلمانوں کے درمیان دہائیوں سے زمین اور وسائل پر تنازع رہا ہے، جسے بی جے پی حکومت مذہبی رنگ دے کر مزید بھڑکاتی رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق آسام میں اپریل 2026 کے قریب انتخابات متوقع ہیں۔ اس طرح کی متنازع ویڈیوز اور بیانات کا مقصد تفریق پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
اس سے قبل ستمبر 2025 میں بھی بی جے پی آسام نے ایک ایسی ہی ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں نہ رہی تو مسلمان آسام پر قبضہ کر لیں گے، جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔