دوران سماعت انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جیل میں طبی سہولیات پر عدم اطمینان کے ساتھ ساتھ خصوصاً اپنی آنکھوں کے مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ماہر ڈاکٹروں تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔
فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو سال چار ماہ سے قید ہیں ۔ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر 6/6 تھی، تاہم بعد ازاں انہیں دھندلا دکھائی دینا شروع ہوا جو وقت کے ساتھ بڑھتا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی پہلے متاثر ہوئی اور پھر کمزور ہونا شروع ہوگئی۔ انہیں بلڈ کلاٹ ہونے کے بارے میں بتایا گیا ہے، جس کے باعث وہ خاصے پریشان دکھائی دیے۔ ملاقات کے دوران ان کی آنکھوں سے مسلسل پانی نکلتا رہا جسے وہ ٹشو پیپر سے صاف کرتے رہے، جس سے وہ غیر آرام دہ محسوس کر رہے تھے۔
فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ بانی پی ٹی آئی نے جیل میں سیکیورٹی اور فراہم کردہ خوراک پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے یا کم از کم کسی ماہر آنکھوں کے ڈاکٹر سے فوری چیک اپ کروایا جائے۔
رپورٹ میں جیل کے سیل میں مچھروں اور کیڑوں کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک ریفریجریٹر فراہم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جسے بنیادی انسانی ضرورت قرار دیا گیا۔
مزید برآں قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کے باعث کتابوں کی فراہمی کی سفارش بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔
چیف جسٹس کے ریمارکس
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت ریاستی تحویل میں ہیں اور انہیں دیگر قیدیوں کی طرح یکساں طبی سہولیات ملنی چاہییں، تاہم کسی کو غیر معمولی رعایت نہیں دی جائے گی۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے گی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ 16 فروری سے قبل یہ اقدامات مکمل کیے جائیں۔ عدالت نے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی کی اجازت دی تاہم کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں معائنے کی استدعا مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صحت کا معاملہ سب سے اہم ہے اور طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔