ایران میں انقلابی تقریبات کے دوران ’بعل دیوتا‘ کے مجسمے کو آگ لگادی گئی

ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کی 47 ویں برسی کے موقع پر تہران اور دیگر بڑے شہروں میں جاری سرکاری تقریبات کے دوران مظاہرین نے ’بعل‘ کے نام سے مشہور ایک مجسمے کو آگ لگا دی اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگائے۔

یہ مظاہرے ’’22 بہمن‘‘ کے نام سے منائے جانے والے سرکاری جلسوں کا حصہ تھے، جن میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی اور ایران کی موجودہ سیاسی اور علاقائی پالیسیوں کے حق میں اظہارِ یکجہتی کیا۔ بعل کے مجسمے پر ڈیوڈ کے ستارے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر بھی تھی، جسے مظاہرین نے جلایا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بعل کو ایک قدیم دیوتا کے طور پر دکھایا جاتا ہے اور اس علامتی عمل کو مغربی طاقتوں اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے طور پر پیش کیا گیا۔ محاذ آرائی اور سیاسی تناؤ کے پس منظر میں، اس طرح کے مظاہرے ایران کی سرکاری پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں جو امریکا اور اسرائیل پر سخت مؤقف رکھتی ہے۔

Iran torch biggest-yet child sacrifice gold God Baal with Stars of David & anti-Israel chants as Epstein rage snaps pic.twitter.com/MomWkdxlQc
— RT (@RT_com) February 12, 2026

ان تقریبات کے دوران ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ اور ’’مرگ بر امریکا‘‘ جیسے نعرے بھی زور و شور سے لگائے گئے، جن کا استعمال تہران کی ریاستی تقریبات میں اکثر دیکھا جاتا ہے اور یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کی انقلابی شناخت کا حصہ ہیں۔

یہ سالانہ اجتماعات اس سال اُس سیاسی پسِ منظر میں سامنے آئے ہیں جب ملک نے حال ہی میں امریکا اور مغربی طاقتوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات، اقتصادی مشکلات اور گزشتہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجات کا سامنا کیا ہے۔ بعض رپورٹوں نے انقلاب کی برسی کے موقع پر عوامی غم و غصے اور حکومتی حمایت دونوں کی ملی جلی جھلک بھی دکھائی ہے۔

Similar Posts