الحمدﷲ! ہم اﷲ تبارک و تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور رحمتِ عالم ﷺ کی نگاہِ رحمت سے مسلمان ہیں اور آپ ﷺ کی امت میں شامل ہونے پر خوش قسمتی کے عظیم منصب سے نوازے جا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوش قسمتی کا یہ عظیم منصب ہم سے اِس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم بہ حیثیت مسلمان باقی مذاہب کے ماننے والوں سے بڑھ کر وقت کی قدر کریں۔ وقت کی قدر جاننے کے لیے ہمیں کسی غیر کے دروازے پر دستک نہیں دینی پڑے گی، کسی کے آگے جھکنا نہیں پڑے گا، نہ ہی اِس کے لیے ہیرے جواہرات اور مال و دولت کے انبار درکار ہیں۔ بس ذرا … دل کے کسی ایک گوشے میں وقت کی قدر جاننے کے لیے تھوڑی سی تڑپ ہونی چاہیے۔
الحمد اﷲ! دنیا کی سب سے عظیم کتاب میں اﷲ اور دنیا کے سب سے بڑے اور عظیم راہ بر، ہادیٔ عالم، محسنِ انسانیت ﷺ کے فرامینِ مقدس کی روشنی میں وقت کی قدر و اہمیت کا پتا اور اس کے گزارنے کے روشن اصول ملتے ہیں۔ بات مزید آگے بڑھانے سے قبل یہ بات اور نقطہ پیش کرنا بھی ضروری ہے کہ جو جتنی بڑی ذات ہوگی، اُس کے اُتنے ہی بڑے اہم اور روشن اصول ہوں گے۔ دنیا میں سب سے بڑی حقیقت اور سچائی یہی ہے کہ خالقِ کائنات اﷲ سے بڑھ کر کوئی ذات نہیں اور ہادیٔ عالم ﷺ سے بڑھ کر کوئی راہ بر و راہ نما نہیں۔ اب بھلا ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ اﷲ کسی کم تر چیز کی قسم، بار ہا کھائے۔ پروردگارِ عالم نے کئی مقامات پر مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے۔
سورۃ الفجر میں وقتِ فجر اور عشر ذوالحجہ کی قسم کھائی ہے۔
مفہوم: ’’فجر کے وقت کی قسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی) اور دس (مبارک) کی راتوں کی قسم۔‘‘
پھر ایک مقام پر ربِ قدوس نے رات اور دن کی قسم بھی کھائی، مفہوم:
’’رات کی قسم! جب وہ چھا جائے (اور ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے) اور دن کی قسم جب وہ چمک اُٹھے۔‘‘
اسی طرح سورۃ الضحیٰ میں ربِ کائنات نے وقت چاشت کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’قسم ہے وقتِ چاشت کی (جب آفتاب بلند ہوکر اپنا نور پھیلاتا ہے) اور قسم ہے رات کے وقت کی جب وہ چھا جائے۔‘‘
پھر ایک جگہ خدائے واحد نے سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھائی ہے۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کر دینا چاہتے ہیں کہ اکثر ہمارے احباب نادانی اور کم علمی کی وجہ سے زمانے کو بُرا کہتے ہیں تو یہ سخت گناہ ہے کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ زمانہ میں خود ہوں۔ العصر میں ارشاد ہوتا ہے کہ زمانہ کی قسم (جس کی گردش انسانی حالات پر شاہد ہے) بے شک! انسان خسارے میں ہے۔ (کیوں کہ وہ اپنی عمرِ عزیز گنوا رہا ہے)
حضور ِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’صحت اور فراغت اﷲ کی طرف یہ دو ایسی نعمتیں ہیں کہ جس کے بارے میں لوگ اکثر خسارے میں رہتے ہیں۔‘‘
ربِ غفور … انسان کو جسمانی صحت اور فراغتِ اوقات کی انمول نعمتوں سے نوازتا ہے، تو اُن میں سے اکثر نادان انسان یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ نعمتیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی اور انھیں کبھی زوال نہ ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے یہ صرف شیطانی چال اور وسوسہ ہوتا ہے، جس کی بِناء پر انسان اِدھر اُدھر کے فضول اور بے سود کاموں میں اپنے آپ کو مصروف کر بیٹھتا ہے۔ جس کا نہ کوئی دنیا میں فائدہ اور نہ آخرت کا سامان۔
حضور سیدِ عالم ﷺ کا فرمانِ مقدس کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن بندہ اُس وقت تک (بارگاہِ الہٰی میں) کھڑا رہے گا کہ جب تک اس سے چار چیزوں کے متعلق پوچھ نہ لیا جائے گا۔
اولاً: زندگی کیسے گزاری۔
ثانیاً: جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا۔
ثالثاً: مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔
اربعاً: جسم کس کام میں کھپائے رکھا۔‘‘
اسی طرح کا ایک اور فرمانِ رسول ﷺ جس کے راوی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ارشاد فرماتے ہیں، مفہوم:
’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔
(1) بڑھاپے سے پہلے جوانی کو۔
(2) بیماری سے پہلے صحت کو۔
(3) محتاجی سے پہلے تونگری کو۔
(4) مصروفیت سے پہلے فراغت کو۔
(5) اور موت سے پہلے زندگی کو۔‘‘
اگر ہم اپنی زندگی کے گزرنے والے شب و روز، درج بالا سطور کے تناظر میں دیکھیں تو کیا ہم خود کو مطمین پائیں گے؟ یقیناً نہیں! ہم تو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اور لمحات کھانے پینے … گھومنے پھرنے… سیر و سیاحت کرنے… ہوٹلنگ کا مزہ چکھنے… فضول گپ شپ کرنے… فلمیں ڈرامے دیکھنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے دل دکھانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ یوں گزرنے والے دن، رات اور ماہ و سال ماضی کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ تلخ و شیریں یادوں سے بھرا گزرا ہوا سال حصہ بن گیا۔
یہ حقیقت ہے کہ گزرا وقت واپس نہیں آتا … مگر آنے والا ہر لمحہ اور ہر صبح کو طلوع ہونے والے سورج کی کرنوں سے پھوٹنے والی روشنی امید کا پیغام ضرور دیتی ہے۔ یہی ایک امید ہی تو ہے کہ جس پر دنیا قائم ہے۔ مایوسی کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ربِ قدوس کے ہاں دیر تو ہے مگر اندھیر نہیں۔
اﷲ تعالی ہمیں ایسے حکم ران عطا فرمائے جو اُس معیار پر پورے اترتے ہوں کہ جس کا ذکر قرآن و حدیث میں ملتا ہے۔ اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے یہی نسخۂ کامل کارگر ثابت ہوگا۔
قارئین محترم! ہمیں وقت کی قدر کرتے ہوئے امیدوں کے اس شجر سے وابستہ رہ کر … نئی امنگوں اور جذبوں کے ستاروں کو اپنے آنگن میں اتارتے ہوئے… اسلام اور وطن عزیز پاکستان کے مکار دشمنوں کے ناپاک عزائم کو …اتفاق و اتحاد، خلوص و پیار، ایثار، ملی یک جہتی، جذبۂ حب الوطنی اور صبر و رضا سے ناکام بنا سکتے ہیں۔
اﷲ کریم ہم سب کو اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدقے عمل کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔ آمین