ایپسٹین کی موت خودکشی تھی یا قتل؟ پوسٹ مارٹم دیکھنے والے ڈاکٹر کا بڑا انکشاف

بدنام زمانہ امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین کی 2019 میں جیل میں ہونے والی موت ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہے۔ ایپسٹین کے خاندان کی جانب سے پوسٹ مارٹم کا مشاہدہ کرنے والے فرانزک ماہر مائیکل بیڈن نے کہا ہے کہ ان کے نزدیک ایپسٹین کی موت پھانسی سے نہیں بلکہ گلا دبائے جانے سے ہوئی۔

برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر بیڈن کا کہنا تھا کہ تمام دستیاب معلومات کو دیکھتے ہوئے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ایپسٹین کی موت دباؤ کے ذریعے سانس روکنے سے ہوئی اور اب اس معاملے کی دوبارہ مکمل تحقیقات ہونی چاہیئں۔

یاد رہے کہ ایپسٹین کو جنسی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا تھا اور وہ نیو یارک کی جیل میں قید تھا، جہاں وہ مردہ پایا گیا۔ اس وقت نیویارک میڈیکل ایگزامنر آفس نے موت کو پھانسی کے ذریعے خودکشی قرار دیا تھا۔

اگرچہ ڈاکٹر بیڈن نے خود پوسٹ مارٹم نہیں کیا، مگر وہ بطور مبصر موجود تھے۔

ان کے مطابق ابتدائی طور پر وہ اور میڈیکل ایگزامنر دونوں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید معلومات درکار ہیں۔ تاہم چند دن بعد اُس وقت کی چیف میڈیکل ایگزامنر باربرا سیمپسن نے موت کو خودکشی قرار دے دیا، جبکہ ڈاکٹر بیڈن کا کہنا ہے کہ وہ پوسٹ مارٹم کے دوران وہاں موجود نہیں تھیں۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق ایپسٹین کی گردن میں تین فریکچر پائے گئے تھے، جن میں ہائیوئیڈ بون اور تھائیرائیڈ کارٹلیج شامل ہیں۔

ڈاکٹر بیڈن کا کہنا ہے کہ اپنے پچاس سالہ کیریئر میں انہوں نے کبھی خودکشی کے کسی کیس میں گردن کے اتنے فریکچر نہیں دیکھے، خاص طور پر جیلوں میں ہونے والی اموات میں۔

انہوں نے 2019 میں امریکی میڈیا کو بتایا تھا کہ شواہد خودکشی کے بجائے قتل کی طرف زیادہ اشارہ کرتے ہیں۔ ایپسٹین کے وکلا بھی میڈیکل ایگزامنر کی رپورٹ سے مطمئن نہیں تھے۔

بعد ازاں امریکی حکمہ انصاف کی ایک رپورٹ میں اس جیل، یعنی میٹروپولیٹن اصلاحی مرکز میں سیکیورٹی کی سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایپسٹین کے سیل میں اضافی کمبل اور کپڑے موجود تھے، جن میں سے بعض کو پھندے جیسی شکل دی گئی تھی، جبکہ معمول کے معائنے بھی درست طریقے سے نہیں کیے گئے۔

مزید یہ کہ موت سے ایک دن پہلے ایپسٹین کے سیل میٹ کو منتقل کر دیا گیا تھا اور نیا قیدی وہاں نہیں رکھا گیا تھا۔ ویڈیو ریکارڈز کے مطابق رات کے وقت لازمی چیک اپ بھی نہیں ہوئے اور بعد میں اہلکاروں نے ریکارڈ میں رد و بدل کیا۔

اگلی صبح دو گارڈز نے ایپسٹین کو بے ہوش حالت میں پایا، جس کی گردن میں نارنجی رنگ کا کپڑا بندھا ہوا تھا۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی موت کی تصدیق ہوئی۔ بعد میں ان دونوں گارڈز پر ریکارڈ میں جعل سازی کے الزامات عائد کیے گئے۔

تحقیقات کے دوران ایک ویڈیو میں ’نارنجی جھلک‘ بھی دیکھی گئی، جسے وفاقی تحقیقاتی بیورو نے ممکنہ قیدی قرار دیا، جبکہ انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں اسے ایک نامعلوم جیل اہلکار بتایا گیا۔

اُس وقت کے امریکی اٹارنی جنرل بل بر نے کہا تھا کہ اس رات کوئی بھی ایپسٹین کے سیل کے حصے میں داخل نہیں ہوا۔

اب ڈاکٹر بیڈن کی جانب سے نئی اپیل کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ایپسٹین کی موت کا کیس، جو کبھی بند سمجھا جا رہا تھا، اب دوبارہ کھل سکتا ہے۔

Similar Posts