غزہ کے مظلومین سے یکجہتی، نامور بھارتی ادیبہ اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول سے بائیکاٹ

جرمن دارالحکومت برلن میں جاری برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سے سے معروف بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

انہوں نے یہ فیصلہ جیوری صدر وم وینڈرز کے اس بیان کے بعد کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “سینما کو سیاست سے دور رہنا چاہیے”۔

رپورٹس کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں جب غزہ کی صورتحال اور جرمنی کی اسرائیل حمایت سے متعلق سوال کیا گیا تو وینڈرز نے کہا کہ فلم سازوں کو سیاست کے میدان میں داخل نہیں ہونا چاہیے اور وہ سیاست کے مقابل ایک متوازن قوت ہیں۔

جیوری کی ایک اور رکن ایوا پوشزنسکا نے بھی کہا کہ جیوری سے اس معاملے پر براہ راست مؤقف کی توقع کرنا مناسب نہیں۔

اروندھتی رائے نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ان بیانات سے “حیران اور دل گرفتہ” ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ آرٹ کو غیر سیاسی رہنا چاہیے۔ رائے نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔

اروندھتی رائے کو 1997 میں اپنے ناول The God of Small Things پر بُکر پرائز ملا تھا۔ وہ فلمی میلے میں 1989 کی فلم In Which Annie Gives It Those Ones کے بحال شدہ ورژن کی پیشکش کے لیے مدعو تھیں، جس میں انہوں نے اداکاری بھی کی اور اس کا اسکرین پلے بھی لکھا تھا۔

فیسٹیول انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ ان کے فیصلے کا احترام کرتی ہے، تاہم ان کی شرکت سے میلے کی مباحثہ فضا مزید بہتر ہوتی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی برلن فلم فیسٹیول کو غزہ جنگ کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب ایک دستاویزی فلم کو ایوارڈ دینے پر جرمن حکام نے اعتراض کیا تھا۔

Similar Posts