ایران سے تمام افزودہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل کی جانی چاہیے، نیتن یاہو

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں سخت مطالبات سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے تمام افزودہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل کی جانی چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے یہ مؤقف امریکا کے ساتھ حالیہ سفارتی رابطوں کے دوران اختیار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امریکا کا کوئی بھی نیا معاہدہ جامع اور نتیجہ خیز ہونا چاہیے، جس میں نہ صرف افزودگی کے عمل کو روکا جائے بلکہ جوہری تنصیبات، تحقیقاتی مراکز اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کا مکمل خاتمہ بھی شامل ہو۔

اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بھی واضح کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو جڑ سے ختم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کسی ایسے معاہدے کو قابلِ قبول نہیں سمجھے گا جو ایران کو مستقبل میں دوبارہ جوہری سرگرمیاں بحال کرنے کا موقع فراہم کرے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ نیتن یاہو نے مطالبہ کیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی حد زیادہ سے زیادہ 300 کلومیٹر تک محدود کی جائے تاکہ خطے میں سلامتی کے خدشات کم کیے جا سکیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ میزائل پروگرام کو نظرانداز کرنا کسی بھی سفارتی پیش رفت کو غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔

دوسری جانب غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غزہ میں تقریباً 500 کلومیٹر طویل زیرِ زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا جا سکا۔

ان کے مطابق اسرائیلی فورسز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم سرنگوں کی پیچیدہ ساخت اور پھیلاؤ کے باعث مکمل خاتمہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔

Similar Posts