جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایک فوجداری کیس کی سماعت کے دوران متنبہ کیا کہ اس اصول سے انحراف صرف اس صورت میں جائز ہوگا جہاں تفتیشی افسر، جرم سے براہ راست تعلق رکھنے والی نیک نیتی پر مبنی تفتیشی وجوہات (جنہیں تحریری طور پر ریکارڈ کیا جائے گا)کی بنا پر یہ یقین رکھتا ہو کہ ایسی شناخت سختی سے ضروری ہے۔
جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کے تحریر کردہ 6 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ ہمیں یہ دیکھ کر شدید دکھ ہوا ہے کہ معاشرہ اب بھی اس بنیاد پر یہ طے کرتا ہے کہ ایک انسان احترام کا مستحق ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ محض اس کے پیشے کی نوعیت سے کیا جاتا ہے، بجائے اس کی فطری عزتِ نفس کے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ انسانی وقار کوئی ایسی رعایت نہیں ہے جو کسی کو بخشی جائے۔ بلکہ یہ ایک ناقابلِ تنسیخ حق ہے جو ہر فرد کو اس کی انسانیت کے ناطے حاصل ہے۔
کہاگیا کہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھنگی، چوڑا، میراثی، جمعدار، ڈوم اور مصلی جیسی اصطلاحات اب محض کسی ذات کی تعریف کے لیے استعمال نہیں ہوتیں بلکہ ان مخصوص ذاتوں کے ارکان کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔
ہمیں ایسے معاشرے کے بارے میں تشویش ہے جو بقا کے لیے صفائی پر انحصار کرتا ہے، لیکن ان لوگوں کی تذلیل کرتا ہے جو اسے ممکن بناتے ہیں۔
جو لوگ معاشرے کی غلاظت صاف کرتے ہیں انہیں ‘گندا’ کہا جاتا ہے اور جو شہروں کو رہنے کے قابل بناتے ہیں ان کی زندگیوں کو فطرتاً کم احترام کے لائق سمجھا جاتا ہے۔
کہا گیا کہ پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں بھی اس دعوے کو تقویت دیتی ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے (UDHR) کے آرٹیکل 1 اور 7، شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہد نامے (ICCPR) کے آرٹیکل 2 اور 26 اور معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کا بین الاقوامی عہد نامہ (ICESCR) کا آرٹیکل 3 قانون کے سامنے برابری اور مذہب یا سماجی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ کا حکم دیتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ کسی بھی ایسی اصطلاح کا استعمال جو نو مسلم کو ‘نیا’ یا کسی اور طرح سے ممتاز کرے، اس کی نہ تو اسلامی تعلیمات میں اور نہ ہی قانون میں گنجائش ہے ۔