عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ اور قطر کے نمائندگان نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد کی صورتحال کو مستحکم کرنے کی عالمی کوششوں میں اپنے کردار کو مزید واضح کردیا۔
ترکیہ نے غزہ میں بین الاقوامی استحکامی فورس کے لیے اپنی فوج بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی جب کہ قطر نے امن منصوبے کی حمایت کے لیے ایک ارب ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری حکومت غزہ میں نہ صرف فوجی دستے بھیجنے کے لیے تیار ہے بلکہ صحت، تعلیم اور فلسطینی پولیس فورس کی تربیت میں بھی عملی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
تاہم وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس بات پرخبردار بھی کیا کہ اسرائیل جکی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں غزہ میں غیر ملکی فورس کی تعیناتی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
اجلاس سے خطاب میں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے اعلان کیا کہ قطر غزہ کی تعمیر نو کے مشن کی حمایت کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کرے گا۔
انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکی صدرکی قیادت میں بورڈ آف پیس 20 نکاتی امن منصوبے پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائے گا تاکہ خطے میں انصاف اور استحکام ممکن ہو سکے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے واضح طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کا حوالہ دیا اور کہا کہ قطر ایسی حتمی حل کی حمایت کرتا ہے جو فلسطینیوں کو ریاست اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا حق دے، جبکہ اسرائیل کو سلامتی اور علاقائی انضمام حاصل ہو۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اجلاس میں موجود کسی بھی امریکی عہدیدار نے فلسطینی ریاست کا براہِ راست ذکر نہیں کیا حالانکہ دو ریاستی حل طویل عرصے سے امریکا، اقوام متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسی رہا ہے۔
اس کے برعکس اسرائیلی قیادت اکتوبر 2023 میں غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد بارہا یہ اعلان کر چکی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی کوئی گنجائش نہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پہلے ہی کھل کر ترکیہ کے غزہ میں فوج بھیجنے کی مخالفت بھی کرچکے ہیں۔