ایران کو جوہری معاہدے پر لانے کیلئے ٹرمپ محدود فوجی کارروائی کرسکتے ہیں، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ کرنے کے لیے محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ یہ انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ممکنہ کارروائی میں ایران کے فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس محدود حملے کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ نئے جوہری معاہدے کو قبول کرے۔ اگر ایران معاہدہ تسلیم نہ کرے تو کارروائی کو وسیع جنگ تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

گزشتہ روز ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ امن کا راستہ اختیار کرے۔

Similar Posts