یہ ایک ایسا شہر ہے جو سانس لیتا ہے اور جدوجہد کی زندگی گزارتا ہے، لیکن اب فضا میں ایک انجانی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
یہ امن یا استحکام کی خاموشی نہیں ہے، بلکہ دبے درد کی خاموشی ہے، وہ خاموش چیخ ہے جو سنائی نہیں دے گی بلکہ اندر سے محسوس کی جائے گی۔ پاکستان کا معاشی ستون کراچی ہے۔
یہ سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے، صنعتی توسیع کرتا ہے، لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے اور قومی تجارت کو سپورٹ کرتا ہے۔
وہ آنکھوں میں امید لیے اس شہر میں آتے ہیں اور لوگ ملک کے کونے کونے سے اس شہرکی طرف اس امنگ کے ساتھ ہجرت کرتے ہیں کہ یہ شہر انھیں ایک موقع اور وقار فراہم کرے گا۔
روز گار کے وسیع مواقع نے نہ صرف مزدوروں کو کراچی کی جانب راغب کیا بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی اپنی طرف کھینچا۔ سرمایہ کار کو بھی یہاں ترقی اور خوشحالی کے مواقع ملے جس سے کراچی شہر ترقی کی دوڑ میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔
سرمایہ کاری کے اس عمل سے کراچی سے ریونیو بھی خوب ملنے لگا۔ بندرگاہ ہونے کے ناطے ملک بھر میں تاجروں نے بھی اپنے مال کی درآمد اور برآمد کے لیے کراچی کا رخ کیا۔ جس سے کراچی میں کاروبار بڑھا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کراچی ہی ہے جس کی طرف توجہ نہیں دی گئی حالانکہ یہ ملک کی معیشت کا دل ہے اور اس میں باوقار زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضروریات کا فقدان ہے۔ بجلی، پانی اور گیس انسانوں کی بنیادی ضروریات ہیں، جوکہ کراچی والوں میں روزمرہ کی لڑائی بن چکی ہے۔
شدید گرمیوں میں طویل عرصے تک بلیک آؤٹ گھروں کو تندور بنا دیتا ہے۔ بچے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے،کیونکہ صبح کے وقت گیس نہیں ہوتی اور وہ خالی پیٹ اسکول جاتے ہیں۔ پانی جو زندگی ہے اور اب نلکوں سے باہر نہیں آتا۔
اسے اعلیٰ قیمتوں پر فروخت کیا جاتا ہے۔ اس طرح ٹینکر مافیا کا کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے۔ گیس کی کمی بھی گھریلو زندگی کو مزید مفلوج کرنے کا باعث بنی ہے۔
کچن خاموش اور چولہے ٹھنڈے اور لوگوں کے پاس غیر محفوظ اور مہنگے سلنڈر استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
بات یہ ہے کہ ایک میگا سٹی کے شہری اس طرح کی اذیتیں کب تک برداشت کر سکتے ہیں؟ شہر میں جذباتی نقصان اس کے جسمانی ڈھانچے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، اجڑی ہوئی گلیاں اورکھلے گٹر ہمیشہ بے دھیان رہ جاتے ہیں۔
وہ محض پریشانیوں سے زیادہ ہیں۔ وہ خاموش قاتل ہیں اور وہ ایک کے بعد ایک سال جانیں چھین رہے ہیں۔ نقل و حمل کا نیٹ ورک بڑا، غیر محفوظ اور غیر موثر ہے اور روزانہ سفر کرنا آسان نہیں ہے۔
تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال جیسے کسی بھی ترقی پسند معاشرے کے ستون بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ ریاست کے زیر انتظام اسکولوں میں کرپشن عروج پر ہے، تعلیم یافتہ اور ماہر اساتذہ کی شدید کمی ہے۔
اس کے برعکس، پرائیویٹ اسکول جن کے پاس بہتر سہولیات ہیں وہ بڑھتی ہوئی فیسوں کے لیے ناقابل رسائی ہیں۔ والدین کے پاس اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا وژن ہوتا ہے لیکن مہنگائی اور معاشی تنگی ان بچوں کی امیدوں کا گلا گھونٹ رہی ہے۔
اسی طرح سرکاری اسپتالوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے اور فنڈزکی کمی ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات کا معیار عام شہری کے لیے ناقابل رسائی ہے۔ آج مہنگائی عوام کی سب سے خوفناک دشمن ہے۔
صرف ایک بنیادی گروسری ایک عیش و آرام کی چیز بن گئی ہے کیونکہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اجرتوں میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
جو لوگ حقوق، انصاف اور ترقی کی بات کرتے تھے اب ان کو زندہ رہنے کی فکر ہے، اگلا کھانا کیسے کھائیں، اگلے بل کی ادائیگی، اسکول کی فیس۔
ان سب معاشرتی مصائب خاموش نفسیاتی عوارض میں مبتلا کردیا ہے۔ عوام تھک چکے ہیں اور پر تشدد ہونے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دے رہے ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ! کراچی خاموش کیوں ہے؟
کیا اس کے لوگ تھک چکے ہیں؟ کیا وہ نا امید ہیں؟ یا وہ روزمرہ کے چکر میں اتنے پھنسے ہوئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ نظام کو چیلنج کرنے کا مطلب جوئے شیر لانا ہے۔ یہاں بحران یہ خاموشی ہے۔
خاموشی اس وقت ہوتی ہے جب لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی آوازوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے، وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی سنی یا دیکھی نہیں جا رہی ہے اور یہ خاموشی اس لیے خطرناک ہے کہ جب یہ سوچ موجود ہے کہ فیصلے عوام کی منظوری کے بغیر ہوں گے، ناانصافی ایک معمول ہوگا اور غفلت کی پالیسی ہوگی۔
کراچی کی چیخ و پکار اس شہرکے لیے مخصوص نہیں، وہ پورے پاکستان میں گونجتے ہیں۔
وہ بنجر پانی کے پائپوں میں اندھیروں میں ڈوبے ہوئے گھروں میں ان کی جیبوں میں جن میں کچھ بھی نہیں ہے اور مہنگائی سے دب رہے ہیں۔
تاریخ جانتی ہے کہ کوئی بھی چیز ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں رہ سکتی۔ جب دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، تو چیخیں نکلتی ہیں اور یہ بھی، یا تو پرسکون یا غصے کے انداز میں ظاہر ہوتے ہیں
یہ خاموشی بیداری، بولنا بدنظمی نہیں ہے۔
سوال پوچھنے میں بے عزتی کی کوئی بات نہیں۔ بنیادی حقوق مانگنا بغاوت نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ اور باشعور قوم کے اشارے ہیں۔کراچی کوکسی بھی قسم کے انتشار یا نفرت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اتحاد، ذمے داری اور احتساب کی ضرورت ہے۔
کراچی اٹھنے کی صورت میں پاکستان طاقتور ہوگا۔ کراچی بولتا ہے تو پورے ملک میں سنا جاتا ہے۔ یہ شہر بے جان نہیں، یہ زندہ ہے، مضبوط اور سخت ہے۔ اس نے محض اپنی آواز کو دبایا ہے۔
اب یہ قوم پر منحصر ہے کہ وہ اس آواز کو واپس لے۔ کراچی کی چیخیں خاموش ہیں لیکن پھر بھی سننے کی ضرورت ہے۔ اب یہ بات نہیں کہ حالات اتنے سنجیدہ کیوں ہیں، لیکن سوال صرف یہ ہے کہ ہم کب تک خاموش رہیں گے۔