امریکی میڈیا کے مطابق اس برفیلے ہواؤں کی رفتار 70 میل فی گھنٹہ تک پہنچنے کا خدشہ ہے اور طوفان کی شدت کی وجہ سے دو کروڑ سے زائد انسانی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اس طوفان نے پہلے ہی فضائی ٹریفک کو تہس نہس کر دیا ہے، 6 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو گئیں ہیں جبکہ سیکڑوں پروزایں تاخیر کا شکار ہیں، مجموعی طور پر اب تک 7 ہزار پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں نیویارک، بوسٹن، نیو جرسی، فلاڈیلفیا، بالٹی مور اور واشنگٹن ڈی سی کے ایئرپورٹس شامل ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق 6 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیو یارک، بوسٹن اور فلاڈیلفیا میں برفباری 18 تا 24 انچ تک متوقع ہے، جبکہ واشنگٹن ڈی سی اور بالٹیمور میں 5 تا 8 انچ کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ جرسے شور میں 2 فٹ سے زائد برف باری کی توقع ہے۔
طوفان سے متاثرہ ساحلی علاقے 600 میل سے زیادہ پھیلے ہیں اور 29 ملین سے زائد امریکی شدید وارننگ کے تحت ہیں۔ ہزاروں پروازیں منسوخ اور زمینی و فضائی سفر بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے۔
یہ تاریخی طوفان شمال مشرقی ساحل پر زندگی کو تقریباً مفلوج کرنے والا ہے، اور شہریوں کو سخت احتیاط کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ طوفان ناقابل فراموش ہو سکتا ہے، اور پوری دنیا کی نظریں اس کی تازہ ترین صورتحال پر مرکوز ہیں۔