ایپسٹین سے قریبی روابط: سابق برطانوی سفیر کو گرفتار کرلیا گیا

امریکا میں برطانیہ کے سابق سفیر اور لیبر پارٹی کے سینئر رہنما 72 سالہ پیٹر مینڈیلسن کو جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے انکشافات کے بعد لندن پولیس نے عوامی دفتر میں بدانتظامی کے شبے میں گرفتار کرلیا، جس کے بعد برطانوی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

برطانوی لیبر پارٹی کے سیاستدان پیٹر مینڈیلسن، جو 9 جون 2017 کو وسطی لندن میں پارلیمنٹ ہاؤسز کے باہر کالج گرین پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے، کو ستمبر میں برطانیہ کی سفارتی خدمات کی سب سے باوقار تعیناتی سے برطرف کردیا گیا تھا۔

ان کی برطرفی اس وقت عمل میں آئی تھی جب جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کی دوستی کی نوعیت اور گہرائی سے متعلق تفصیلات سامنے آنا شروع ہوئی تھیں۔

پولیس نے رواں ماہ کے آغاز میں مینڈیلسن کے خلاف مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت نے سابق سفیر اور ایپسٹین کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کی منظوری دی تھی۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ایک سابق حکومتی وزیر سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں افسران نے ایک 72 سالہ شخص کو عوامی دفتر میں بدانتظامی کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔

جنوری کے آخر میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ای میلز سے ظاہر ہوا کہ مینڈیلسن اور ایپسٹین کے درمیان تعلقات عوامی سطح پر معلوم تعلق سے کہیں زیادہ قریبی تھے۔

ان ای میلز کے مطابق مینڈیلسن نے بطور وزیر، سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن کی حکومت میں خدمات انجام دیتے ہوئے فنانسر ایپسٹین کے ساتھ معلومات بھی شیئر کی تھیں۔

مینڈیلسن، جنہوں نے اسی ماہ کیئر اسٹارمر کی لیبر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا اور پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں اپنی نشست بھی چھوڑ دی تھی، اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ انہیں ایپسٹین کے ساتھ اپنی ماضی کی وابستگی پر بہت گہرا افسوس ہے۔ تاہم انہوں نے حالیہ انکشافات پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا اور تبصرے کے لیے بھیجے گئے پیغامات کا جواب بھی نہیں دیا۔

۔

دوسری جانب گزشتہ ہفتے کنگ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو بھی سرکاری دفتر میں بدانتظامی کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایپسٹین کو خفیہ سرکاری دستاویزات فراہم کیں، تاہم انہوں نے ہمیشہ ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔

Similar Posts