ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کا سیمی فائنل اور فائنل میں پہنچنا آئی سی سی کو کتنا بھاری پڑے گا؟

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنلز اور فائنل جیسے اہم میچوں کے لیے ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز کر دیا ہے جس کے ساتھ ہی شائقین کرکٹ کے لیے چند اہم اور دلچسپ شرائط بھی سامنے آئی ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ان بڑے میچوں کی ٹکٹیں آن لائن دستیاب ہیں تاہم میچوں کے مقامات کا حتمی فیصلہ ٹیموں کی جیت اور ہار سے مشروط رکھا گیا ہے۔

خاص طور پر اگر پاکستانی ٹیم سیمی فائنل یا فائنل تک رسائی حاصل کرتی ہے تو میچوں کے مقامات تبدیل کر دیے جائیں گے اور جن شائقین نے پہلے سے ٹکٹیں بک کرائی ہوں گی انہیں ان کے پیسے مکمل طور پر واپس کر دیے جائیں گے۔

شیڈول کے مطابق پہلا سیمی فائنل چار مارچ کو کھیلا جائے گا جس کے لیے دو مقامات کولکتہ اور کولمبو کو ذہن میں رکھا گیا ہے۔

اگر پاکستان کی ٹیم سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیتی ہے تو وہ اپنا میچ چار مارچ کو سری لنکا کے شہر کولمبو میں کھیلے گی۔

اسی طرح اگر پاکستان ناک آؤٹ مرحلے تک نہیں پہنچ پاتا لیکن سری لنکا کی ٹیم بھارت کے علاوہ کسی دوسری ٹیم کے خلاف سیمی فائنل کھیلنے کی حقدار ٹھہرتی ہے تو ایسی صورت میں بھی پہلا سیمی فائنل کولمبو میں ہی ہوگا۔

تاہم اگر یہ دونوں صورتیں پیدا نہ ہوئیں یا بھارت اور سری لنکا کا آمنا سامنا ہوا تو پھر پہلا سیمی فائنل کولکتہ کے ایڈن گارڈنز اسٹیڈیم میں منعقد ہوگا۔

دوسرا سیمی فائنل پانچ مارچ کو ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں کھیلا جانا طے پایا ہے جبکہ ورلڈ کپ کا بڑا فائنل آٹھ مارچ کو ہوگا۔

فائنل کے حوالے سے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جس کے تحت یہ اہم ترین مقابلہ احمد آباد میں ہونا ہے لیکن اگر پاکستان کی ٹیم فائنل میں پہنچ جاتی ہے تو اس میچ کو احمد آباد سے کولمبو منتقل کر دیا جائے گا۔

آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی مداح نے کسی ایسے اسٹیڈیم کے لیے ٹکٹ خریدی جہاں پاکستان کی شرکت کی وجہ سے میچ منعقد نہ ہو سکا تو ان تمام شائقین کو ٹکٹ کے پیسے واپس مل جائیں گے۔

کرکٹ کے دیوانے ورلڈ کپ کی ویب سائٹ پر جا کر اپنی نشستیں بک کر سکتے ہیں تاہم انہیں اپنی پسندیدہ ٹیم کی کارکردگی اور وینیو کی تبدیلی کے امکانات کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔

Similar Posts