امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں ایران پر ممکنہ حملے کی دھمکیوں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کے بعد یہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ٹرمپ نے ایران پر ’خطرناک جوہری عزائم‘ رکھنے کا الزام عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو یورپ اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، حتیٰ کہ مستقبل میں امریکا تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کو ’بڑے جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ رینج دو ہزار کلومیٹر ہے، جبکہ امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ حد تقریباً تین ہزار کلومیٹر تک ہو سکتی ہے، جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کے لیے ناکافی ہے۔
تنازع کا بنیادی معاملہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران مسلسل کہتا آیا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن مقاصد کیلئے ہے۔ امریکا اب ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اسرائیل مخالف گروہوں کی حمایت کے معاملات کو بھی مذاکرات میں شامل کرنا چاہتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات سے قبل کہا کہ ایران کو میزائل پروگرام پر بھی بات کرنا ہوگی، اور اس معاملے سے انکار ’ایک بڑا مسئلہ‘ ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر سفارتی حل چاہتے ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کے حوالے سے مثبت امید ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اس عمل سے ’نہ جنگ نہ امن‘ کی موجودہ صورتحال سے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جنہوں نے ان مذاکرات کو ’تاریخی موقع‘ قرار دیا ہے۔
امریکی وفد میں خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ عمان اس پورے عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان عمان اور جنیوا میں بات چیت ہو چکی ہے۔
گزشتہ برس اسرائیل کی جانب سے ایران پر اچانک حملوں کے بعد 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی، جس میں امریکا نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔ اس کے بعد خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کے خدشات موجود ہیں، تاہم کئی علاقائی ممالک امریکا کو ایران پر حملے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تہران میں عوامی سطح پر بھی رائے منقسم ہے کہ آیا جنگ ہو گی یا سفارتی حل نکل آئے گا۔