تفصیلات کے مطابق سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کی سروس بک میں علیحدہ علیحدہ تاریخ پیدائش لکھی ہیں، سروس بک درخواست گزار کی کسٹڈی میں ہی تھی۔
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ درخواست گزار 2024 میں ریٹائر ہوئے۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ سروس بک میں درج تاریخ پیدائش سے 2022 میں ریٹائرمنٹ کی عمر ہو گئی، درخواست گزار نے دو برس اضافی کام کیا ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تاریخ پیدائش کوئی بھی ہو، ساٹھ سال کی سروس شامل کی جائے گی، اگر ڈپارٹمنٹ نے دو سال اضافی کام کروایا ہے تو درخواست گزار کو زمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ تعلیمی سرٹیفکیٹ پر پیدائش کا سال 1964 درج ہے۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ تعلیمی ریکارڈ کے مطابق نوکری جوائن کرتے ہوئے درخواست گزار کی عمر 16 برس تھی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ آپ کے ریکارڈ کے مطابق آپ کم عمر ہونے کی وجہ سے نوکری کے اہل ہی نہیں تھے۔ اٹھارہ برس سے کم عمر میں نوکری کیسے مل گئی۔ جب آپ نوکری کے لئے اہل ہی نہیں تھے تو واجبات کے لئے اہل کیسے ہوگئے؟۔ اگر یہی معاملہ ہے تو پوری سروس کی تنخواہ واپس کروائیں گے۔
عدالت نے بعدازاں فیصلہ محفوظ کرلیا۔