تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کڈنی سینٹر کا دورہ کیا جہاں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، کڈنی سینٹر بورڈ چیئرپرسن ماریانہ کریم ، ڈاکٹر وحاج اور دیگر نے وزیراعلیٰ سندھ کا استقبال کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے کڈنی سینٹر کی چھٹے فلور کا دورا کیا جو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام سے منصوب ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کڈنی سینٹر میں نئے آئی سی یو کا افتتاح کر دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کڈنی سینٹر کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو فیز ٹو آئی سی یو اور ون ٹائم گرانٹ سے مکمل ہونے والے دیگر منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کڈنی سینٹر کی تعمیر و ترقی کے لیے 50 کروڑ روپے گرانٹ کی منظوری بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری دراصل انسانیت، وقار اور امید میں سرمایہ کاری ہے۔ سندھ میں کسی مریض کو سہولیات کی کمی کی وجہ سے تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔
سید مراد علی شاہ نے کڈنی سینٹر کی چیئرپرسن ماریانہ کریم کی 40 سالہ انسانی خدمات پر شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے کڈنی سینٹر انتظامیہ سے مکمل تعاون کو یقینی بنانے کو کہا۔
انہوں نے کہا کہ کڈنی سینٹر سے پارٹنر شپ ہماری بہت پرآنی ہے۔ یہاں آکر بہت اچھا لگا۔ سال پہلے کڈنی سینٹر کے انتظامیہ نے کہا کہ فنڈز چاہیے، ہم نے ہسپتال میں مزید چیزیں بنانی ہیں۔ پوری پاکستان سے لوگ علاج کروانے یہاں آتے ہیں۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کام کرتی ہے۔
ہسپتالوں میں بغیر منافعے کے کام کرتے ہیں۔ صحت کی بھترین سہولیات شہریوں کا حق ہے، وہ ہم پوری کر رہے ہیں۔
یہاں آنے والے جو مریض دل کے مریض ہوتے ہیں ان کو کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے دل کا علاج کروا کے آئیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ پروپوزل بھیجیں میں پیسے دینے کے لیے تیار ہوں۔
سندھ حکومت کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ماڈل کوئی اور نہیں ایڈاپ کرسکا۔
وزیر اعلی سندھ۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم محکمہ صحت کو ایک سو ارب کی گرانٹ دیتے ہیں۔ آئندہ سال کڈنی سینٹر کی گرانٹ تین سو ملین سے بڑھا کر پانچ سو ملین کریں گے۔