غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے پر 6 ممالک کے وزرائے داخلہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک ہوئے۔ کانفرنس میں یورپی ممالک نے پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے اور قانونی طریقہ کار کے تحت افرادی قوت کے تبادلے پر آمادگی ظاہر کی۔
اجلاس میں پولینڈ، ایسٹونیا، لیٹویا، فن لینڈ اور لتھوانیا کے وزرائے داخلہ شریک تھے۔ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ان ممالک نے پاکستان کے ساتھ سرکاری سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے قریبی رابطے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
شرکا نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف پاکستان کی حالیہ کارروائیوں اور غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت پیش رفت قرار دیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ چھ ممالک اپنی وزارت داخلہ میں فوکل پرسن مقرر کریں گے تاکہ معلومات کے تبادلے اور رابطہ کاری کو مؤثر بنایا جا سکے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط نظام وضع کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ کے طور پر کھڑا ہے، خصوصاً افغانستان کے تناظر میں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں یورپ کی جانب غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ باہمی تعاون اور مربوط اقدامات کے ذریعے یورپی ممالک اور پاکستان اس اہم مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں۔