دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی سر زمین پر ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری افغان سرزمین سے کی جا رہی ہے۔ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ کوئی نیا نہیں، مگر حالیہ برسوں میں اس میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی حکام نے متعدد مواقع پر افغان عبوری حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ کالعدم تنظیمیں افغانستان میں کھلے عام سرگرم ہیں، تربیتی مراکز چلا رہی ہیں اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ سفارتی سطح پر مذاکرات، مشترکہ کمیشنوں کے اجلاس اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے باوجود خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔
افغان حکام کی جانب سے مسلسل انکار یا خاموشی نے نہ صرف شکوک و شبہات کو بڑھایا بلکہ عوامی سطح پر بھی بے چینی پیدا کی۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ صورتحال مزید تکلیف دہ اس وقت ہو جاتی ہے جب وہ ماضی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔ افغانستان کی جنگوں کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، معاشی بوجھ برداشت کیا اور عالمی دباؤ کے باوجود ہمسایہ ملک کو تنہا نہیں چھوڑا۔ اس پس منظر میں اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو تو اسے احسان فراموشی سے کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ بین الاقوامی تعلقات میں مستقل دوستیاں یا دشمنیاں نہیں ہوتیں، مفادات ہوتے ہیں، مگر ہمسائیگی کا تقاضا ہے کہ کم از کم ایک دوسرے کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
افغانستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی ہے، جو پاکستان میں تشویش کے ساتھ دیکھی جا رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کی سیاست میں بھارت کا کردار اور پاکستان کے ساتھ اس کی کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں، اگر کابل نئی دہلی کے ساتھ اس نوعیت کا تعاون بڑھاتا ہے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے، تو یقیناً اسلام آباد اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اسی تناظر میں اسرائیل کی یاترا کے موقع پر نیتن یاہو اور مودی کے بیانات نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، اگرچہ ہر ملک کو اپنی خارجہ پالیسی بنانے کا حق حاصل ہے، لیکن علاقائی حساسیتوں کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔ افغانستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جس خطے میں واقع ہے وہاں طاقتوں کی کشمکش پہلے ہی پیچیدہ ہے، کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کا تاثر خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔
افغان طالبان نے اگست 2021 میں کابل کا اقتدار سنبھالا تو پاکستان میں عمومی تاثر یہ تھا کہ اب دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ سرحدی نظم و نسق بہتر ہوگا، دہشت گردی کے خلاف تعاون میں اضافہ ہوگا اور باہمی اعتماد کی فضا پروان چڑھے گی، لیکن تین برس گزرنے کے بعد حالات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں اور تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں۔
پاکستان نے طالبان حکومت کے قیام کے بعد عالمی برادری میں افغانستان کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اسلام آباد کا مؤقف تھا کہ افغانستان کو تنہا چھوڑ دینا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوگا۔ پاکستان نے انسانی امداد، خوراک، ادویات اور سفارتی سطح پر سہولت کاری کے ذریعے ہمسایہ ملک کا ساتھ دیا۔ لاکھوں افغان مہاجرین پہلے ہی پاکستان میں مقیم تھے اور نئی لہر کے خدشات کے باوجود پاکستان نے سرحد مکمل طور پر بند نہیں کی۔ اس پس منظر میں اسلام آباد کی یہ توقع بجا تھی کہ کابل کی عبوری حکومت پاکستان کی سلامتی کے خدشات کو سنجیدگی سے لے گی۔تاہم زمینی حقائق نے اس امید کو دھندلا دیا۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا اور حکام کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری افغان سرزمین سے ہو رہی ہے۔ کالعدم تنظیموں کی موجودگی، تربیتی مراکز اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو گہرا کیا۔ پاکستان نے متعدد سفارتی رابطوں، پرچم ملاقاتوں اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے ذریعے افغان عبوری حکومت کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی، مگر اسلام آباد کا شکوہ ہے کہ کابل نے ان خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا۔ افغانستان خود بھی دہائیوں سے بدامنی اور شدت پسندی کا شکار رہا ہے، اگر کوئی گروہ افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے تو اس کے اثرات بالآخر افغانستان کے داخلی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ توقع کرنا غیر منطقی نہیں کہ کابل حکومت ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گی جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
سرحدی کشیدگی کے تناظر میں عالمی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے بیان میں دونوں ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔ یہ بیان اس امر کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ کشیدگی محض دو ممالک کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع تر علاقائی اور عالمی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اور شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور سماجی ڈھانچے پرگہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایسے میں سرحد پار سے کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت کرنا ریاست کے لیے ممکن نہیں۔
افغان عبوری حکومت کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اسے داخلی استحکام، معاشی بحران، انسانی حقوق کے سوالات اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے چیلنجز درپیش ہیں، اگر وہ اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے تو اس کے سفارتی اور معاشی مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان افغانستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور زمینی راستوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کا کلیدی ذریعہ بھی۔ دونوں ممالک کی معیشتیں کسی نہ کسی درجے میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے تصادم کا راستہ کسی کے مفاد میں نہیں۔
عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں۔ سرحد کے آرپار آباد قبائل، مشترکہ ثقافتی ورثہ اور مذہبی ہم آہنگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ دشمنی مستقل حل نہیں ہو سکتی۔ سرحدی جھڑپوں کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ نقل مکانی، مکانات کی تباہی، کاروبار کی بندش اور تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل انسانی المیے کو جنم دیتا ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور شہریوں کا تحفظ محض رسمی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی ذمے داری بھی ہے۔خطے کی بڑی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی جغرافیائی اہمیت اسے ہمیشہ عالمی سیاست کا مرکز بناتی رہی ہے۔
اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو بیرونی قوتیں اپنے مفادات کے لیے اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔پاکستان کے لیے سب سے اہم ترجیح اپنی داخلی سلامتی ہے، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو اس کے خلاف کابل حکومت کو واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد دے گی بلکہ افغانستان کے اپنے مفاد میں بھی ہوگی۔ عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے اور معاشی بحالی کے لیے بھی یہ قدم ناگزیر ہے۔ افغانستان کو دہشت گرد عناصر کی سرپرستی سے مکمل لاتعلقی کا واضح پیغام دینا ہوگا ۔ جغرافیہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ہمسائیگی ایک مستقل حقیقت ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اس حقیقت کو دشمنی کے بجائے تعاون کی بنیاد بنایا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال خطے میں زندگی گزار سکیں۔