ابتداء میں اس حملے کی اطلاع روسی میڈیا نے دی، بعدازاں ایران نے بھی اس حملے کی تصدیق کر دی جب کہ اسرائیل اور امریکا نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
امریکا نے اپنے آپریشن کا نام ایپک فیوری رکھا ہے جب کہ اسرائیل نے لائنز روور کے نام سے جنگ شروع کی ہے جب کہ ایران نے آپریشن فاتح خیبر کے نام سے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔
میڈیا نے اسرائیلی وزیر دفاع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے۔ حملے میں امریکی فضائیہ نے حصہ لیا۔ حملے کے بعد تہران میں شدید نوعیت کے دھماکوں کی اطلاعات آئی ہیں۔
ایران کے کئی شہروں جن میں دارالحکومت تہران بھی شامل ہے، پر حملے کیے گئے ہیں۔ ایران کے بوشہر پر بھی اسرائیلی اور امریکی حملوں کی خبریں ہیں جب کہ حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی ہے، ایران نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل پھینکے ہیں جب کہ بحرین، قطر اور دیگر ملکوں میں بھی امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسرائیل کے شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جب کہ اسرائیلی حکومت نے شہریوں کو سیف ہاؤسز میں پناہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایرانی نیوی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ میڈیا میں اس قسم کی اطلاعات بھی آئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فائٹر جیٹس نے ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف وسیع آپریشن ’ایپک فیوری‘ کا آغاز کردیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران دہائیوں سے امریکی مردہ باد کے نعرے لگاتا رہا اور خطے میں امریکی مفادات پر حملے کا ذمے دار بھی ایران ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایران کی بحریہ کو مکمل تباہ کرنے جارہے ہیں۔ اس آپریشن میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی جاسکتی ہیں۔
ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے اور ایرانی میزائل پروگرام مٹا دیں گے۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب اگر ہتھیار ڈال دیں تو مکمل استثنٰی ملے گا۔ اگر ایسا نہ کیا تو یقینی موت کا سامنا ہوگا۔
امریکی کسی انتہا پسند حکومت کو پروان نہیں چڑھنے دے گا۔ ایرانی حکومت نے بھی اعلان کیا کہ ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر بیان دیا ہے کہ ایرانی افواج جارحیت کرنے والوں کو سبق سکھائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے امریکا فسٹ کو اسرائیل فسٹ بنا دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس صورت حال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور جنگ کا دائرہ وسیع بھی ہو سکتا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق قطر میں قائم العدید امریکی اڈا دھماکوں سے گونج اٹھا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ایران میں پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ ایران میں صورت حال خاصی سنگین ہے، پاکستانی شہریوں کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ادھر عمان کے وزیر خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ ایران پر حملے سے انھیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام نہ امریکا کے لیے اچھا ہے نہ ہی عالمی امن کے لیے۔ ایرانی حملے کے بعد یو اے ای نے پروازیں بند کر دی ہیں۔
ادھر میڈیا میں اسرائیلی اور امریکی حملوں میں جانی نقصانات کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں تاہم ابھی تک یہ نہیں پتہ چلا کہ جانی نقصان کتنا ہوا ہے البتہ ایرانی میڈیا کے حوالے سے یہ اطلاع آئی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی مہینوں پہلے سے جاری تھی اور حملے کی تاریخ کا فیصلہ بھی ہفتوں پہلے کیا گیا۔ یہ حملے امریکا کے ساتھ مل کر کیے گئے ہیں۔
یہ حملے پیشگی حملے ہیں جس کا مقصد ایران کی طرف سے فوری خطرے کو کم کیا جاسکے۔ چار روز تک شدید اور مربوط حملے کیے جائیں گے جس کے بعد تہران کی صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔
بہرحال عالمی میڈیا پر مختلف قسم کی اطلاعات آ رہی ہیں اور تاحال مصدقہ اطلاعات کا فقدان ہے۔ روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں ایرانی انٹیلی جنس ہیدکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
تہران کے علاوہ ایران کے دیگر شہروں جن میں خرم آباد، تبریز اور اصفہان میں بھی حملے کیے گئے ہیں۔ مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں اور عراق نے بھی ایئر ٹریفک معطل کردی ہے۔
اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔ ایران میں حملے کے بعد اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور تمام اسکول بند کر دیئے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایک طاقتور ترین حملے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اسرائیل نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کا انجام اْس کے ہاتھ میں نہیں۔ایران کی جانب سے مختلف عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایران پر امریکی حملے کے بارے میں خاصے دنوں سے اطلاعات آ رہی تھیں۔ عالمی میڈیا اس حوالے سے خبریں جاری کر رہا تھا تاہم اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان بحران کے حل کے لیے مذاکرات بھی جاری تھے۔
مذاکرات کے حوالے سے امیدافزاء اشارے بھی مل رہے تھے۔ اس توقع کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ شاید معاملات جنگ تک نہ پہنچیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہداف واضح تھے۔
وہ گاہے بگاہے ایران میں رجیم چینج کے حوالے سے بیانات جاری کرتے تھے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ایسی باتیں سامنے آ رہی تھیں کہ شاید مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں کیونکہ ایران یورینیم افزودگی کے حوالے سے بھی خاصی لچک کا مظاہرہ کر رہا تھا لیکن پس پردہ کیا معاملات چل رہے تھے، اس کا اندازہ شاید بہت سے لوگوں کو نہیں تھا۔
تازہ صورت حال خاصی سنگین اور پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ ایرانی میزائل خلیجی ممالک میں بھی گرے ہیں۔ اس سے خلیجی ممالک میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ خلیجی ممالک کے باہمی ٹیلی فون رابطے جاری ہیں۔
یہ صورت حال مستقبل میں کیا رخ اختیار کرتی ہے، اس کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایران کے وزیر خارجہ نے خاصا سخت بیان جاری کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران شدید مزاحمت کے موڈ میں ہے۔
اس جنگ کے خطے اور دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، یہ سوال بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ خلیج اور آبنائے ہرمز خاصے اہم تجارتی راستے ہیں۔ اگر ان راستوں میں کوئی رکاوٹ آتی ہے تو اس سے عالمی سطح پر معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران اب میزائل حملے کر رہا ہے۔ عراق میں بھی میزائل گرائے گئے ہیں۔ یہ جنگ کب تک جاری رہتی ہے، اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ امیر قطر تمیم بن حماد الثانی نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔
ادھر اسپین نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف یکطرفہ کارروائی کو مسترد کر دیا ہے۔ روس اور چین کا ردعمل بھی خاصا محتاط ہے۔
ایران اس وقت خاصی مشکل صورت حال سے دوچار ہے کیونکہ وہ عالمی قوتیں جو امریکا اور اسرائیل کے اس اقدام کے حق میں نہیں ہیں، وہ بھی محتاط ہیں جب کہ دوسری طرف امریکا اور اسرائیل مکمل طور پر اتحاد کے ساتھ مل کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
اس صورت حال میں ایران کی حکومت کتنی مزاحمت کر پاتی ہے، اس کے بارے میں آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا۔ تاحال مصدقہ معلومات کے حوالے سے زیادہ مواد دستیاب نہیں ہے۔
عالمی میڈیا مختلف ذرائع کے حوالے سے خبریں دے رہا ہے یا پھر امریکا اور اسرائیل باضابطہ طور پر حملے کی اطلاعات فراہم کر رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے بھی میزائل داغے دانے کی مصدقہ اطلاعات مل گئی ہیں جب کہ ایرانی وزیر خارجہ کا بیان بھی سامنے آ چکا ہے تاہم اسرائیلی اور امریکی حملوں میں کتنا نقصان ہوا ہے، اس حوالے سے تاحال کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں۔
وقت کی نزاکت کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور جنگ رکوانے کی کوششیں کریں کیونکہ اگر یہ جنگ پھیلتی ہے تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑیں گے۔