اجلاس کے دوران انتونیو گوتریس نے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے، اور کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا استعمال عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انتونیو گوتریس نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے عالمی امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق ایران کے کم از کم 20 شہری حملوں کا نشانہ بنے جو تشویشناک اور ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے۔ امن صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
اجلاس کے دوران اسرائیلی حکام کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا بھی ذکر کیا گیا۔
اس حوالے سے گوتریس نے محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں اس وقت کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔
فرانس کے مندوب نے اپنے خطاب میں ایران پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو امن کی ضرورت ہے اور سیکیورٹی کونسل کو مذاکرات کے راستے کو ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے عالمی قوانین کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
بحرین کے مندوب نے اپنی تقریر میں ایران کے اقدامات کو ایک سنگین دھچکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، خاص طور پر بحرین کی شہری آبادی پر گرنے والے میزائل حملوں کو۔
بحرین کی خودمختاری پر یہ حملہ ناقابل برداشت ہے اور ہم نے کویت، یواےای اور اردن پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول کی ہیں۔ بحرینی مندوب نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے یہ حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
روسی مندوب نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی خودمختاری اور سالمیت پر حملہ کیا گیا ہے۔
ایران میں 200 سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، اور اسکولز تک کو نہیں بخشا گیا۔ امریکا اور اسرائیل نے انتہائی غیرذمہ دارانہ قدم اٹھایا ہے جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔”