مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ صورتحال کے باعث نہ صرف جانی و مالی نقصان ہوا ہے بلکہ عالمی فضائی آپریشن بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
آرامکو ملک کی سب سے بڑی آئل کمپنی سمجھی جاتی ہے اور اس تنصیب پر حملے نے توانائی کے عالمی شعبے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس کے علاوہ ترکیہ میں ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی خبر ہے جبکہ قبرص میں برطانوی ملٹری بیس کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
اصفہان میں ایک امریکی ڈرون مار گرائے جانے اور کویت میں کئی امریکی طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں بھی حملوں کی خبریں ہیں۔ شہر سنندج پر چھ میزائل گرنے کی اطلاع ہے جس میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کا بتایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے گئے اور بیلسٹک میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بھی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغے جس کے جواب میں تل ابیب نے بیروت کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔
ان کارروائیوں میں اکتیس افراد کے جاں بحق اور ایک سو انچاس کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حزب اللہ کے رہنما محمد رعد کی شہادت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
خطے میں جاری اس کشیدگی کے باعث عالمی فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔ مختلف ایئرلائنز نے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بارہ سو انتالیس پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر محصور ہیں۔
پاکستان میں بھی گزشتہ تین دن کے دوران پانچ سو سے زائد پروازیں منسوخ ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔