امریکا کا عراقی کرد رہنماؤں کے ذریعے ایران میں خانہ جنگی کا منصوبہ

0 minutes, 0 seconds Read

ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد خطے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور اب ایسی اطلاعات ہیں کہ امریکا ایرانی کرد رہنماؤں سے رابطے بڑھا رہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ایرانی کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد ایران میں عوامی بغاوت کو ہوا دینا بتایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی اپوزیشن گروپوں اور عراق کے کرد رہنماؤں سے ممکنہ فوجی تعاون کے حوالے سے سرگرم رابطے شروع کر رکھے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی کرد مسلح گروہوں کے ہزاروں جنگجو عراق اور ایران کی سرحد کے ساتھ سرگرم ہیں، جن کی بڑی تعداد عراق کے کردستان ریجن میں موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں ان میں سے کئی گروہوں نے بیانات جاری کیے ہیں جن میں ممکنہ کارروائیوں کا اشارہ دیا گیا اور ایرانی فوجی اہلکاروں کو حکومت سے الگ ہونے کی اپیل بھی کی گئی۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی ان گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور منگل کے روز دعویٰ کیا کہ کرد فورسز کو درجنوں ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کی جانب سے ایرانی کرد گروہوں کی مبینہ حمایت کا آغاز جنگ شروع ہونے سے کئی ماہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز عراقی کرد رہنماؤں مسعود بارزانی اور بافل طالبانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ امریکی حکام کے مطابق اس گفتگو میں ایران میں جاری امریکی فوجی کارروائی اور مستقبل میں امریکا اور کرد قیادت کے ممکنہ تعاون پر بات کی گئی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسوس نے بھی اس رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گفتگو ایران پر امریکی حملے کے ایک روز بعد ہوئی، تاہم اس کی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آئیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مشورے پر کیا گیا۔

سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایرانی کردستان کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ حجری سے بھی رابطہ کیا، جن کی جماعت کو ماضی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے نشانہ بنایا تھا۔

دوسری جانب 22 فروری کو ایران سے تعلق رکھنے والی پانچ کرد جماعتوں نے ’سیاسی قوتوں کے اتحاد برائے کردستان–ایران‘ کے نام سے ایک اتحاد بھی قائم کیا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد موجودہ ایرانی حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانا بتایا گیا ہے۔

Similar Posts