پاسداران انقلاب کے مطابق اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں نے خطے میں مزید دباؤ بڑھایا تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے سمیت سخت اقدامات کر سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی سمندر میں میزائل اور ڈرون کے علاوہ ان کی بڑی طاقت ظاہر نہیں کی گئی۔
ادھر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ جلد ہی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرے گی تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر کہ امریکا جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گا، ایرانی پاسداران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے چیلنج کر دیا ہے۔
اسی دوران کویت کی ایک بندرگاہ کے قریب دھماکے کے بعد ایک کارگو ٹینکر سے سمندر میں تیل رسنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق جہاز کا عملہ محفوظ ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور اس کی بندش عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔