عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت کے انتخاب میں میرا ذاتی طور پر شامل ہونا ضروری ہے تاکہ ایسا رہنما سامنے آئے جو ملک میں امن اور استحکام لائے۔
ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو ایران کی قیادت کے لیے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کو ایسا رہنما چاہیے جو کشیدگی کے بجائے ہم آہنگی اور امن کی طرف ملک کو لے جائے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر کی تقرری میں اسی طرح شامل ہونا چاہتے ہیں جیسے انہوں نے ماضی میں وینزویلا کی سیاست میں کردار ادا کیا تھا۔ اگر ایران میں سخت گیر قیادت سامنے آئی تو مستقبل میں ایک بار پھر کشیدگی اور جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہاں نئی قیادت کے انتخاب کے لیے مذہبی و سیاسی حلقوں میں مشاورت جاری ہے اور سب سے مضبوط نام مجتبیٰ خامنہ ای کا ہے۔
واضح رہے کہ مجتبی خامنہ ای شہرت ایک مذہبی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی روابط کے طور پر بھی ہے۔